خطبات محمود (جلد 7) — Page 153
۱۵۳ جسمانی کام ہے۔مگر یہ دین ہے۔کیونکہ ایمان مومنین کے قلب کے بغیر نہیں رہ سکتا۔اسی طرح یہاں کے کام جو بظا ہر دنیاوی معلوم ہوتے ہیں دینی ہیں۔مثلاً مدرسہ ہے۔جس میں لڑکے اپنے فائدہ کے لئے علم پڑھتے ہیں۔ہسپتال ہے لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔یہ اور اسی طرح دوسرے کام ایک دنیاوی رنگ رکھتے ہیں۔مگر یہ نہیں کہہ سکتے۔کہ یہ دنیاوی ہیں۔کیونکہ ان کی غرض دین ہے۔اور بالواسطہ دین کا اثر ڈالنا ہے۔مثلاً مدرسہ میں جو تعلیم دی جاتی ہے۔اس کا نتیجہ یہ نہیں کہ لوگ دین حاصل کریں۔مگر جب بچہ کے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ اسے اس لئے گھر سے جدا کر کے ایک ایسے گاؤں میں جو الگ تھلگ ہے چھوڑا گیا ہے کہ وہ دیندار بنے۔تو یہی خیال بہت قیمتی ہے۔پھر جب روز مرہ اس کی نظر ایسی جگہوں پر پڑتی ہے۔جہاں خدا کا رسول اور مامور رہتا تھا۔اور پھر جب وہ دیکھتا ہے۔کہ وہ جگہ جو بالکل غیر آباد اور جنگل تھی۔اس کے متعلق خدا کے فرستادہ نے جو یہ خبردی تھی۔کہ دور تک آباد ہو جائے گی۔پوری ہو رہی ہے۔تو اس پر خاص اثر ہوتا ہے۔پھر اس کے کان میں آواز آتی ہے۔کہ تمام دنیا کے ساتھ اسلام کی جنگ شروع ہے۔اور یہ آواز گھر میں اس شدت کے ساتھ وہ نہیں سن سکتا تھا۔ان حالات میں اگر وہ ایک لفظ بھی دین کا نہیں سیکھتا۔تو بھی ایک ایسی روح آہستہ آہستہ اس میں پیدا ہو رہی ہے۔جو آج نہیں تو کل ضرور کام دے گی۔لیکن اگر مدرسہ کو ہٹا دو۔تو یہ روح ملیا میٹ ہو جائے گی۔مگر یہ جو کچھ میں نے بتایا ہے۔ادنیٰ حالت کو مد نظر رکھ کر بتایا ہے۔ورنہ سکول میں دینی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔لڑکے درس سنتے ہیں۔جب میں درس دیتا ہوں تو لڑکے میرا درس سنتے ہیں۔اور اب میں نے اور کو مقرر کر دیا ہوا ہے۔پھر مختلف لیکچر۔خطبہ سنتے ہیں۔اور دینی باتیں ان کے کانوں میں پڑتی رہتی ہیں۔اسی طرح مدرسہ احمدیہ ہے۔اس میں عربی، فلسفہ پڑھ لیا۔اور بالواسطہ دین کی تعلیم بھی حاصل کرلی۔لیکن اگر غرض ملازمت ہی ہو تو بھی اگر اس کام کو چھوڑ دیا جائے تو دین کی حفاظت کرنے والے کون ہونگے۔ہو سکتا ہے۔کہ عربی پڑھنے لکھنے۔قرآن کا ترجمہ پڑھ لینے اور دوسرے علوم حاصل کر لینے کے بعد کوئی ملازمت کرلے۔لیکن اگر اس جماعت کو مٹا دو۔تو پھر کون دین کی حفاظت کرے گا کیونکہ ان ہی میں سے ایسے بھی نکلتے ہیں۔جو دین کی خدمت کرتے ہیں۔تو گویہ دنیاوی کام ہو مگر اصل میں دینی ہے۔غرض یہاں کے جتنے کام ہیں سارے کے سارے حتی کہ پہرے دینا۔تجارت زراعت کرنا بھی دینی کام ہی ہے۔کیونکہ ان کے نتیجہ میں بھی دین کی طاقت کو فائدہ پہنچتا ہے۔پس دینی اور دنیوی کام میں اگر فرق کیا جا سکتا ہے تو اسی طرح کہ وہ کام ذاتی نہیں جس سے بلا واسطه یا بالواسطه اسلام کو فائدہ پہنچے۔وہ دینی ہے۔اور دنیوی وہ ہے جو صرف اپنی ذات سے تعلق