خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 147

۱۴۷ کمزور بھی ہوتے ہے۔صحابہ میں بھی ہوئے۔ان سے پہلے بھی تھے۔اور بعد میں بھی ہوں گے اور دنیا میں کوئی جماعت ایسی نہیں۔جس کے سارے کے سارے لوگ ولی اللہ ہوں۔اگر کوئی یہ خیال رکھتا ہے تو واقعات کا انکار کرتا ہے۔اور قدم قدم پر ٹھو کر کھاتا ہے۔پس چونکہ سارے لوگ ولی اللہ نہیں۔اس لئے کیا یہ کہہ دینے سے کہ سوال نہیں کرنا چاہئیے۔سارے لوگ سوال کرنا چھوڑ دیں گے ؟ ایک جماعت تو ایسی ہوگی جو چھوڑ دے گی۔اور کہے گی ہم فاقے مرنا منظور کریں گے مگر سوال نہیں کریں گے۔لیکن اور جماعت ہوگی جو ایسے مضبوط ایمان والی نہیں ہوگی۔وہ کچھ مدت تک تو سوال نہ کرے گی۔لیکن جب دیکھے گی کہ بچے فاقے مرنے لگے ہیں۔اور عورت کے پاس ستر ڈھانکنے کے لئے بھی کپڑا نہیں تو کہے گی اب ہم سے برداشت نہیں ہو سکتی اور سوال کرے گی۔ایسی صورت میں سوال نہ کرنا کس طرح ممکن ہے۔اس کے لئے دو طریق ہیں اور دو طاقتیں ہیں جو ملکر جب تک کوشش نہ کریں سوال نہیں مٹ سکتا۔ایک طاقت تو وہ ہے۔جو حاکم طاقت ہے۔اور انتظام کی بات خدا نے اس کے سپرد کی ہے۔اور ایک وہ جو افراد ہیں۔اور جن کے متعلق انتظام کیا جاتا ہے۔یہ دونوں مل کر مٹانا چاہیں تو رسم سوال مٹ سکتی ہے۔منتظم جماعت سے مراد مثلاً ناظر امور عامہ اور ناظر بیت المال ہیں۔اور ہر وہ جس کو خدا نے علم دیا ہے۔وہ دوسروں کو وعظ کرے اور بتائے کہ سوال کرنا بہت بری چیز ہے۔واعظ اپنے وعظ میں۔لیکچرار اپنے لیکچر میں۔مدرس اپنے شاگردوں کو۔افسر اپنے ماتحتوں کو۔نگران ان لوگوں کو جن پر اس کی نگرانی ہو۔مرد اپنے بیوی بچوں کو اور بیویاں اپنی اولاد کو جائیں۔اور ذہن نشین کرائیں کہ سوال کرنا ایک بری چیز ہے۔یہ بات حکومت کے ساتھ تعلق رکھتی ہے یعنی ہر رنگ کی حکومت۔خواہ وہ سیاسی ہو یا علمی یا تمدنی جسے حاصل ہو وہ سمجھائے۔کہ سوال کرنا بہت بری اور بے غیرتی کی علامت ہے۔مگر اس سمجھانے کے ساتھ خدا تعالی کے قانون کو توڑا نہیں جا سکتا۔کیونکہ ایسے لوگ ہوتے ہیں۔جنہیں فاقہ کی نوبت آتی ہے۔جن کے پاس پہننے کو کپڑا نہیں ہوتا ایسے لوگ ہیں۔اور ہوتے رہیں گے۔پھر سوال ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں کیا کیا جائے؟ اس کے لئے یہ ہونا چاہئیے کہ ہم اپنے بھائیوں اور ساتھ والوں کی ضرورت کو دیکھ کر اس کی اطلاع ان لوگوں تک پہنچائیں۔جو انتظام کر سکتے ہیں۔مثلاً دارالعلوم میں جو لوگ رہتے ہیں۔ان کا کام ہے کہ اگر ان کے محلہ میں کسی کی حالت فاقہ کشی تک پہنچ گئی ہے تو وہ اس بات کو فاقہ کش پر نہ چھوڑیں کہ وہ اپنی حالت دوسروں کے سامنے پیش کر کے سوال کرے۔بلکہ وہ خود اس کی حالت کو دیکھیں۔اور منتظمین کو اطلاع دیں کہ ہمارے ہمسایہ میں فلاں شخص ہے۔جس کو فلاں ضرورت ہے۔اس کی حالت فاقہ کشی تک پہنچ گئی ہے یا وہ نگا ہے۔اور مستحق ہے کہ بھائی اس کی مدد کریں۔