خطبات محمود (جلد 7) — Page 129
۱۲۹ اب میں اس مضمون کی طرف آتا ہوں۔جس کا بیان کرنا آج میرا مقصد ہے۔لیکن اس کے شروع کرنے سے پہلے میں ایک فرع بیان کرتا ہوں۔اور وہ یہ ہے۔ہم دیکھتے ہیں دنیا میں جتنے کام ہوتے ہیں۔ان میں کچھ تو اصل حقیقت ہوتی ہے۔اور کچھ ارد گرد کے اثرات ہوتے ہیں مثلاً انسان کا ارادہ اور نیت اصل ہے۔مگر اور کئی چیزیں ایسی ہیں جو ارادہ اور نیت پر اثر ڈالتی ہیں۔یہ چیزیں چونکہ ضمنی ہوتی ہیں۔اور نظر نہیں آتیں۔اس لئے ان کی طرف توجہ نہیں کی جاتی۔اور یہ تباہی کا زیادہ باعث ہوتی ہیں۔مثلاً پاخانہ کو لوگ دیکھتے ہیں اور اس سے کراہت کرتے ہیں اور ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ یہ نہ تو کپڑوں کو لگے اور نہ کھانے کی چیزوں کو۔یہ تو اس کے براہ راست علم کی وجہ سے ہے۔لیکن کبھی ضمنی طور پر یہ لگ جاتا ہے اور اس وقت کوئی پروا نہیں کی جاتی۔مکھیاں اس پر بیٹھتی ہیں اور پھر کھانے پر آبیٹھتی ہیں۔ان کے جسم کے ساتھ جو گندگی لگی ہوتی ہے وہ چونکہ نظر نہیں آتی اس لئے اس سے کراہت نہیں کی جاتی۔یہی وجہ ہے کہ براہ راست کوئی گندی چیز کھا کر بیمار ہونے والے کم نظر آئیں گے۔لیکن مکھیوں کے ذریعہ گندگی کھانے والے ہزاروں اور لاکھوں بیمار ہوتے ہیں۔مکھیاں کہیں گلے سڑے زخم پر کہیں پیپ پر کہیں پاخانے پر کہیں کسی اور گندی چیز پر بیٹھتی ہیں اور پھر کھانے پر آبیٹھتی ہیں اور اس طرح اس میں گندگی داخل کر دیتی ہیں۔یہ ضمنی چیز ہے۔مگر اس کے جو نقصان ہیں۔وہ ظاہرہ گندگی نہیں ہیں۔تو ضمنی باتوں سے یہ نسبت نظر آنے والی چیزوں کے زیادہ نقصان ہوتے ہیں۔مکھی آجاتی ہے اور کھانے پر آبیٹھتی ہے۔مگر اس کی پروا نہیں کی جاتی۔کیونکہ اس کے ذریعہ جو گند آتا ہے وہ ایسا باریک ہوتا ہے کہ نظر نہیں آتا۔نیکیوں کے متعلق بھی یہی بات ہوتی ہے۔کہ ایک حصہ چیز اصل ہوتی ہے اور ایک۔ضمنی۔جن کے ذریعہ ترقی ہوتی جاتی ہے۔مثلاً کسی نیکی کے لئے نیت اور ارادہ ہوتا ہے۔لیکن انسان کر نہیں سکتا۔کیونکہ ارادہ اور نیت کمزور ہوتی ہے۔مگر بعض اوقات ایسی ضمنی باتیں شامل ہو جاتی ہیں۔کہ انسان کر لیتا ہے۔اسی طرح بعض دفعہ ارادہ تو مضبوط ہوتا ہے۔مگر ضمنی باتیں ایسی آجاتی ہیں۔کہ انسان ان کی وجہ سے کر نہیں سکتا۔اصلی اور ضمنی باتوں کی ایک مثال یہ ہے کہ فوجی لوگ لڑائی میں لڑنے کے لئے جاتے ہیں جن میں سے بعض تو بہت ڈرپوک ہوتے ہیں۔ان کی اصل نیست تو یہ ہوتی ہے کہ کسی طرح اپنی جان بچائیں نہ کہ لڑیں۔مگر دوسروں کی بہادری دیکھ کر وہ بھی لڑنا شروع کر دیتے ہیں۔اور بعض اوقات بڑی بہادری کا کام کر لیتے ہیں۔یا اس طرح کہ پچھلی فوج بہت بہادر ہوتی ہے۔وہ آگے بڑھتی ہے۔اور اس کے آگے جو فوج ہوتی ہے اسے بھی مجبوراً آگے بڑھنا پڑتا ہے لوگ اسے دیکھ کر کہتے ہیں کہ۔حصہ