خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 94

۹۴ تمہارے ذمہ امانت ہے سو اس کو پورا کرنے میں کو تاہی نہ کرو۔جو عورتوں پر سختی کرتا ہے۔وہ اپنی بزدلی کا اظہار کرتا ہے۔بہادر تو بہادر سے مقابلہ کرتا ہے۔کمزوروں پر ہاتھ نہیں اٹھاتا۔پس عورتوں سے نیک سلوک کرو۔پردہ کے متعلق پہلے بھی کہا تھا اب پھر کہتا ہوں۔گھر میں سرنگا رکھنا ناجائز نہیں۔باہر جانے کے لئے چادر یا برقعہ کی ضرورت ہے۔لیکن عادت کا اثر ہوتا ہے۔اسی وجہ سے عام طور پر مسلمان عورتیں گھر میں بھی سر پر کپڑا رکھتی ہیں۔تاکہ باہر جا کر بھی رکھنے کی عادت ہو جائے۔مجھے یہ سنکر بہت تعجب ہوا۔کہ یہاں قریب ہی اہل حدیث کا ایک گاؤں ہے۔جہاں عورتوں میں پائجامہ پہننے کا رواج ہے۔مگر احمدی ابھی پیچھے ہیں۔میں نے پچھلی دفعہ سیکرٹری محاسب وغیرہ کے انتخاب کے لئے کہا تھا مگر مجھے اب تک بتایا نہیں گیا کہ کون کون مقرر ہوئے ہیں۔اگر ابھی تک مقرر نہیں ہوئے۔تو اب جمعہ کے بعد مشورہ کرکے مجھے اطلاع دیں۔میں پھر نصیحت کرتا ہوں کہ یہ خدا نے ایک موقع دیا ہے۔اس کو غنیمت جانو۔اپنے نفسوں کی درستی کرو۔اپنے اعمال سے اپنے احمدی ہونے کا اظہار کرو۔بچے دین کی سچائی بچے اعمال سے ثابت کرو۔محض دعویٰ سے کچھ نہیں ہوتا۔اسلام کا دعویٰ کرنے والے تو پہلے بھی بہت موجود تھے۔تم اپنے اندر بین فرق پیدا کرو۔تاکہ تمہاری اصلاح سے لوگوں کو فائدہ ہو۔مومن کی یہ شرط ہے۔کہ خدا اس کے لئے غیرت رکھتا ہے۔اور اس کے دشمن کو ہلاک کرتا ہے۔اگر خدا اس کی نصرت اور حفاظت نہیں کرتا۔تو اس کے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق میں کوئی کمی ضرور ہے۔مومن کو تو ہر وقت ڈرنا چاہیے رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ حالت تھی۔کہ زور کی آندھی آجائے۔تو گھبرا جاتے تھے۔مگر زندہ مومن سے خدا کا معالمہ ایسا ہوتا ہے۔کہ خدا اس کی حفاظت کرتا ہے۔تم زندہ مومن ہو۔ایسا نہ ہو کہ خدا کے وجود کا پتہ ہی نہ ہو۔مومن وہی ہے جس کو خدا نظر آجائے۔اس کو معلوم ہو جائے۔کہ واقعی خدا ہے خدا ان آنکھوں سے تو نظر نہیں آتا۔مگر اس دنیا میں اندھے کو کس طرح پتہ لگتا ہے کہ اس کے رشتہ دار ہیں ان کے سلوک سے۔اسی طرح خدا کے سلوک سے پتہ لگ جانا چاہیے کہ خدا ہے۔اور جب تک کوئی ایسا مومن نہیں اس کا ایمان لغو اور فضول ہے۔الفضل ۲۲ ستمبر ۱۹۲۱ء)۔۔۔ا بخاری کتاب الرقاق باب فی الحوض