خطبات محمود (جلد 6) — Page 83
AW جواب دیا کہ بیشک میرے پاس بہت مال ہے، لیکن میری ذات پر مہینہ میں تین چار درہم سے زیادہ خرچ نہیں ہوتے لیے ہماری جماعت غربا کی جماعت ہے۔اس میں نہ بڑے بڑے زمیندار ہیں۔نہ بڑے بڑے تاجر بلکہ جولوگ بڑے سمجھے جاتے ہیں۔وہ چونکہ غرباء میں شامل ہیں۔اس لیے ان غرباء کی نسبت سے بڑے معلوم ہوتے ہیں۔ورنہ در حقیقت دوسروں کے مقابلہ میں ہماری جماعت کے امراہ بھی غریاہ ہی ہیں۔حالی کا شعر ہے۔کر دیا مر کے بیگانوں نے یگانہ ہمکو ورنہ یہاں کوئی نہ تھا ہم میں یگانہ ہرگز کہ وہ شعراء جو بڑے تھے، وہ تو مرگتے اس لیے ہم جو بڑے نہ تھے۔بڑوں کے نہ ہونے کے باعث بڑے شمار ہونے لگے۔تو ہماری جماعت کے امراء واقعی امراہ نہیں بلکہ وہ غربامہ کی جماعت میں ہونے کے بات خریار کی نسبت سے امیر ہیں اگر اور لوگوں کی نسبت دیکھا جاتے تو وہ امرا میں شامل نہیں ہو سکتے۔ایک کنسٹیبل جب زمینداروں میں جائیگا تو دارو خرجی یا معدار صاحب کہلا ئیگا، لیکن جب وہ تھانیدار کے سامنے ہو گا تو اس و ہی پوزیشن ہوگی جو اس کے سامنے ان زمینداروں کی تھی ہیں در حقیقت ہمارے سلسلہ کے امراء کی امارت نسبتی ہے ورنہ بڑے بڑے تاجروں کے مقابلہ میں اگر کوئی تاجر بھی ہے تو اس کی بڑی شان نہیں۔ایسے ہی اگر کوئی زمیندار ہے تو وہ بھی معمولی ہے۔یا کوئی چار پانسو روپیہ ماہوار کا نوکر ہے۔یا کسی کا پیشہ وکالت ہے یا اور کوئی کام کرتا ہے مگر اتنے پر بھی میں دیکھتا ہوں کہ عام طور پر ایسے لوگ دین کے معاملات میں سستی سے کام لیتے ہیں اور انہوں نے اس غرض کو جو اس سلسلہ میں شامل ہونے کی تھی۔پس پشت ڈال رکھا ہے، نمازوں میں سستی کرتے ہیں۔یا اور کوئی دین کا کام سپرد کیا جاتا ہے تو اس کی نسبت لا پرواہی برتی جاتی ہے کیسی انجمن کے نمبر ہوتے ہیں تو اس میں شامل نہیں ہوتے۔اسلام کی اشاعت اور تبلیغ کو اپنا فرض نہیں سمجھتے کیا ایسے لوگوں کو خبر نہیں کہ حضرت مسیح موعود نے ان کے لیے ایک بددعا کی ہے۔جو دین کی طرف سے لاپروا ہیں۔چنانچہ فرمایا ہے۔اسے خدا ہرگز مکن شاد آل دل تاریک را آنکه او را فکر دین احمد مختار نیست کہ اسے خدا اس تاریک دل کو کبھی خوش نصیب نہ کر جبکو آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کے دین کی فکر نہیں ہے۔یہ بددعا ہے۔جو حضرت مسیح موعود کے منہ سے دین سے غفلت برتنے والوں کے حق میں نکلی ہے۔اسلئے به اضا به جلدم وسيرة الصحابه جلد اول ما