خطبات محمود (جلد 6) — Page 7
کہا جائیگا۔کہ اس میں ایمان ہے ہی نہیں۔اور وہ دھوکہ دینا چاہتا ہے کہ میرے پاس ایمان ہے اور اس طرح جو کچھ اسے ملے اسے مفت سمجھ کرلے لینا چاہتا ہے۔کیونکہ اس کے اندر ایمان تو ہے ہی نہیں اور اس کے خریدنے والا بھی سمجھتا ہے کہ اگر اس کی چیز ناقص ہے۔تومیں جو کچھ دینے لگا ہوں۔وہ اس سے بھی زیادہ ناقص ہے۔یہ اپنی آخرت کو برباد کر رہا ہے۔میرا اگر دنیا کا کچھ نقصان ہو گیا تو کیا ہوا۔اس خیال سے دونوں میں سودا ہو جاتا ہے اور ان کی مثال اس واقعہ میں ایسی ہوتی ہے جو یوں مشہور ہے کہ ایک قافلہ کہیں جارہا تھا۔اس میں سے ایک شخص بازار گیا۔اور جاکر بزاز سے ایک کپڑے کا تھان مانگا۔بزاز نے ایک ایسا تھان جو اندر سے پھٹا ہوا تھا اور اوپر ثابت نہیں تھیں۔تھوڑی سی قیمت پر اس کے سامنے پیش کیا۔تاکہ جلدی سے خریدے اور اسے کھول کر نہ دیکھے۔چنانچہ اس نے فوراً خرید لیا اور قیمت دیگر چلا گیا۔بزاز نے جلدی سے روپے لے کر رکھ لیے۔جب وہ چلا گیا تو بزاز کو اس کے نفس نے ملامت کی اور وہ خریدنے والے کے پیچھے چلا۔تاکہ تھان واپس لے آتے اور اس کے روپے اسے واپس کر دے۔جب جا کر اسے ملا۔تو کہا یہ تھان میں نے تم کو دھوکہ سے دیدیا تھا۔دراصل یہ اندر سے پھٹا ہوا ہے۔یہ مجھے ه و 02 واپس کر دو۔اور اپنی قیمت لے لو۔اس نے کہا اس بات کا کوئی فکر نہ کرو میں نے جو تمہیں دام دیتے تھے۔بھی کھوٹے ہی تھے۔یہی حال ایمان بیچنے اور خریدنے والوں کا ہوتا ہے بیچنے والا ایک چیز دینے کا اقرار کرتا ہے حالانکہ اسکے پاس ہوتی ہی نہیں یا ناقص ہوتی ہے مگر باوجود اس قسم کے سودے کر کے یہ لوگ تے ہیں کریم اجا ندارہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قَالَتِ الأَعْرَابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلكِن قُولُوا اسلمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلَ الإِيمَانُ فِي قُلُوبِکھر۔کہ بدوی لوگوں میں سے ایک جماعت ایسی ہے۔جو کہتی ہے ہم ایمان لے آئے۔ان کو گرد و تم مست یہ کہو کہ ہم ایمان لے آتے ہیں تم تو کبھی ایمان لاتے ہی نہیں۔تمہاری ایسی قسمت کہاں۔ہاں یہ کہو کہ ہم مسلمان کہلانے لگ گتے ہیں کیونکہ ایمان تو تمہارے اندر داخل نہیں ہوا۔اور جب ایمان داخل ہی نہیں ہوا تو پھر تمہارا کوئی حقی نہیں ہے کہ اپنے آپ کو ایماندار کہو۔ایمان کے آثار تو م میں پیدا ہی نہیں ہوئے۔دیکھو ہر چھوٹے سے چھوٹے کام کا کچھ نہ کچھ نتیجہ نکلتا ہے۔ایک عالم ہوتا ہے۔گو علیم اس کے دماغ میں ہوتا ہے مگر پتہ لگ جاتا ہے کہ یہ عالم ہے۔اسی طرح گو ایمان قلب سے تعلق رکھنے والی چیز ہے جسے اللہ ہی جانتا ہے، لیکن انسان بھی اس کے اثرات اور اظلال سے پتہ لگا لیتا ہے کہ ہے یا نہیں۔اور ایمان تو خود نخود ظاہر ہو جاتا ہے اس کے متعلق کسی کے بتانے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی تو فرمایا