خطبات محمود (جلد 6) — Page 552
۵۵۲ بعض لوگ کام کچھ نہیں کرتے اور قرض سے لے کر گزارہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں۔توکل پر گزارہ کرتے ہیں۔حالانکہ توکل انبیاء اور اولیا کرتے ہیں۔اور اس کے سنے ہیں کہ وہ شخص بادشاہ ہو گیا۔کیونکہ جس طرح بادشاہ جب چاہتے ہیں ٹیکس لگا کر رقم وصول کرتے ہیں۔اسی طرح وہ لوگ ہو متوکل ہوتے ہیں۔ان کی ضرورت خدا پوری کرتا ہے مگر یہ عجیب متوکل ہیں کہ لوگوں سے قرض لیتے ہیں اور دیتے نہیں۔ہاں جولوگ اپانچ ہوں یا معذور ہوں۔ان کی مدد حکومت پر فرض ہے۔اگر حکومت غیر مذہب کی ہو اور اس کا ایسا انتظام نہ ہو تو پھر وہ جس جماعت سے تعلق رکھتے ہوں۔اس جماعت کے امام کا اور بیت المال کا فرض ہے کہ ان کی ضروریات پورا کرے۔لیکن جس طرح بعض لوگ قرض لینے میں بد مالکی کرتے ہیں۔اسی طرح بعض دوکاندار بھی ہونگی کرتے ہیں وہ بیچوں یا عورتوں کو یا ایسے لوگوں کو جن کی آمد کی کوئی سبیل نہیں وہ محتاج یا اپانچ ہیں۔اور ان کا بار بیت المال پر ہے۔قرض دیتے ہیں اور بچوں کے باپ کو اور عورت کے خاوند اور اپاہجوں کے قرض کے لیے انجمن کومجبور کرتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ شور ڈالنے سے مل ہی جاتے گا۔حالانکہ ان کا فرض ہے کہ یہ قرض اس کو دیں جس پر ان کو ذاتی اعتماد ہو۔اور وہ شخص ذاتی آمدنی رکھتا ہو۔اگر کوئی شخص ایسا نہیں کرتا تو وہ بھی ٹھگی کرتا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے معاملات کی خرابی سے جماعت کو بدنام کرتے ہیں۔اس لیے بہتر ہو کہ ایسے لوگ اپنے رویہ کی اصلاح کریں۔ورنہ ان کو جماعت سے الگ کر دیا جائے گا۔مذہب سے الگ کرنا تو اختلاف عقائد سے ہوتا ہے مگر جس شخص کا رویہ جماعت کے لیے مضر ہو۔اس کو جماعت سے الگ کیا جا سکتا ہے۔میں ان اصحاب کو بھی نصیحت کرتا ہوں جو شکستی ہے کام لیتے ہیں کہ دوستی کو چھوڑ دیں۔یاد رکھو کہ یہ معاملات کی اچھائی یا برائی ہے جس کی بنا پر خشخص تمہارے متعلق رائے قائم کرتے ہیں۔اگر معاملات اچھے ہیں تو لوگ تمہاری بات سن سکتے ہیں۔اگر نہیں توساری جماعت چند آدمیوں کی خاطر ٹھگ کہلائے گی۔اور مثال میں دو چار نام سے دینا ہی کافی خیال کیا جائیگا۔پس جو قرض دیتا ہے وہ حسن ہے بچی ضرورت کے وقت کو اور میعاد معین میں دا کرو اگر کسی معقول وجہ سے نہیں اُتار سکتے تو نرمی اور خندہ پیشانی سے اس کو یقین دلاؤ کہ میں ان وجوہ سے اب ادا نہیں کر سکا۔پھر آئندہ کر دونگا اور جب روپیہ آئے تو پہلے قرض خواہ کے روپے ادا کر ور حضرت سول