خطبات محمود (جلد 6) — Page 503
۵۰۳ آئے۔اس کا زیادہ اثر رہتا ہے۔دکھی مسلمان نماز نہیں پڑھتے۔روزانہ نماز کے تارک ہونگے مگر عید کی نماز پڑھنے چلے جائیں گے۔حالانکہ روزانہ نماز ایمان کی تکمیل کے لیے اس کی نسبت نہایت ضروری ہے۔پھر عید کی نماز تو ایسی ہے کہ اگر انسان اکیلا ہو - تورہ جاتی ہے۔مگر روزانہ نماز کسی صورت میں بھی چھوڑی نہیں جاسکتی۔حتی کہ بیماری میں بھی پڑھنی ضروری ہے، تو یہ نماز بہت زیادہ افضل اور اعلیٰ ہے مگر لاکھوں آدمی اس کو تو چھوڑ دیتے ہیں اور عید کی نماز کونہیں چھوڑتے۔وجہ یہ کہ وہ سال میں ایک دو دفعہ آتی ہے۔اور یہ ہر روز پڑھنے کا حکم ہے۔حالانکہ یہ اس سے افضل اور اعلی ہے۔اس دن کی فضیلت کی اور وجوہات ہیں۔اور دو چھٹی نمازہ ہے۔جو اس دن کو افضل بناتی ہے۔اکیلی عید کی نمازی اسکی فضیلت کا باعث نہیں۔اسکی ایسی ہی مثال ہے کہ کسی کے پاس پانچ روپے اور کسی کے پاس پانچ روپے اور ایک چھوٹی ہو۔دوسرے کا مال پہلے کی نسبت زیادہ ہوگا، لیکن اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ چوٹی روپیہ سے بڑھکر ہے۔مگر لوگ نادانی سے چوٹی کو بڑا سمجھتے ہیں۔حالانکہ اصل میں روزانہ نماز رو پیر کی طرح ہوتی ہے اسی طرح لوگ نمازوں کے تارک ہوتے ہیں۔مگر روزے آنے پر شور پڑ جاتا ہے۔حالانکہ گو روزے فرض ہیں۔مگر نماز کی نسبت کم ہیں۔اور یہ اس درجہ پر نہیں جس درجہ پر نماز ہے وہ بھی دین کے ارکان میں سے ایک رکن ہے۔مگر نماز زیادہ ضروری ہے۔تو جو چیز دیر کو آتی ہے۔اس کو عزت سے دیکھتے ہیں اور جو روزانہ کی ہے۔اسے معمولی سمجھا جاتا ہے۔اسی طرح جو چیز آسانی سے حاصل ہو جائے۔اسے معمولی سمجھا جاتا ہے اور جس پر محنت صرف ہو۔اس کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔حالانکہ بہت سی چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں۔وہ بعض اوقات کہیں سے کہیں پہنچا دیتی ہیں۔اور بعض اوقات بڑی بڑی کچھ نتیجہ نہیں پیدا کرتیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے پیشاب اور پاخانہ کے وقت ابن عباس لوٹاں کچھ دیتے تھے۔اتنی سی بات کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے وہ دعا کی۔جو جنگوں پر جانے والوں کے لیے بھی نہیں فرمائی۔چنانچہ ان کے لیے تو فرمایا۔اللهم فقهه فی الدین ہے مگر لڑائی پر جانے والوں کے لیے یہ نہیں فرمایا۔تو کاموں کے لیے بڑائی اور چھوٹاتی صرف محنت سے نہیں رکھی جاتی بلکہ اور بھی وجوہات ہوتی ہیں۔اس وقت میں جو حکم بیان کرنے لگا ہوں۔وہ بھی ایسا ہی ہے اور وہ سلام کا حکم ہے اسلام مه بخاری ومسلم بروایت مشکوة کتاب المناقب اہل البیت