خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 497 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 497

کو ایک گالی کوئی دے تو وہ طیش میں آجاتا ہے کسی کے ذرا سے اعتراض کرنے پرسم پھکنے لگ جاتا ہے عمولی محبت اور پیار پر انسان آپے سے باہر ہوجاتا ہے پھر کیونکر مکن ہے کہ اس نبی سے محبت ہوجو تمام خوبیوں کی مابع ہے، جو تمام صفات حسنہ رکھتی ہے اور پھر وہی رہے اور سی کو پتہ ن گے۔ایک ملک ایک شہر ایک عورت ایک بچہ کی محبت تو ظاہر ہو جاتے اور انسان کے اعمال میں اس کے آثار پائے جائیں۔مکان کی محبت تو پوشیدہ نہ رہے۔عہدہ کی محبت تو دبائی نہ جاسکے۔خطاب کی محبت کا تو پتہ لگ جائے۔سیاست اور قوم کی محبت تو اپنے آپ کو ظاہر کر دے۔مگر نہ کرے تو خدا کی محبت ظاہر نہ کرے۔اور ونی کی دبی ہی رہے۔میرے نزدیک یہ دعویٰ کرنا کہ خدا تعالیٰ سے محبت ہے مگر اس کے آثار کا ظاہر نہ ہونا ایک مجنون دعویٰ ہے۔اور جو شخص اس طرح دعوی کرتا ہے۔وہ یا تو خود مجنون ہے یا دوسروں کو مجنون سمجھتا ہے۔یا پھر اس کی عقل پر ایسا پردہ پڑ گیا ہے کہ اتنی بڑی غلطی کرتا ہے اور سمجھتا نہیں۔یا وہ ایک بڑا شریر اور دباش آدمی ہے کہ اتنا بڑا جھوٹا دعوی کر کے خیال کرتا ہے کہ تمام لوگ پاگل اور ممنون ہیں۔جو اس کے دعوی کو صحیح مجھے لیں گے کیونکہ میں طرح سر پر آئے ہوئے سورج کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔اس سے بھی واضح طور پر اس کے دعوئی کا جھوٹا ہونا ظاہر ہوتا ہے۔اور اس سے زیادہ پاگل اور مجنون کوئی نہیں ہو سکتا۔مگر دنیا میں ایسے لوگ ہیں اور ایک نہیں دو نہیں سینکڑوں نہیں ہزاروں نہیں ، لاکھوں نہیں کروڑوں پائے جاتے ہیں جس سے يقيناً یہ تیجہ نکلتا ہے کہ یا تو دنیامیں عقل کا معیار ایسا گر گیا ہے کہ اب جو کچھ بھی بے وقوفی کی بات اس کی طرف منسوب کی جائے وہ جائز اور صحیح ہو جاتی ہے۔یا یہ کہ شرارت اور بدی عجیب اور تکبر اس قدر ترقی کر گیا ہے کہ ہر ایک انسان خیال کرتا ہے کہ میرے جیسا عقل مند اور کوئی نہیں ہوسکتا۔میں جوچاہونگا دار سے منوالونگا۔ان دو نتائج کے سوا اور کوئی نتیجہ نہیں جو نکلے۔کیونکہ ہم روزانہ دیکھتے ہیں صبح و شام دیکھتے ہیں۔ایک نہیں دو نہیں سینکڑوں اور ہزاروں آدمی جو ہمارے سامنے آتے ہیں مختلف پیشے کرتے ہیں۔مختلف طرز عمل رکھتے ہیں۔ان کی زندگیوں میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی محبت کا دعوای کرتے ہیں۔جو بالکل جھوٹا اور باطل دعویٰ ہوتا ہے۔پس تم خوب یاد رکھو اور اچھی طرح سمجھ لو کہ محبت پیار اور عشق کوئی ایسی چیز نہیں۔جو چھپ سکے اس کا چھپانا ناممکن ہے۔اور قطعاً ناممکن ہے۔بعض لوگ کہا کرتے ہیں۔ہمیں محبت تو ہے مگر ہم آپ کا اظہار نہیں کرنا چاہتے، لیکن یہ جھوٹ اور فریب ہے۔حضرت صاحب کے زمانہ میں بعض ایسے لوگ تھے جو آپ کی مجلس میں نہ آتے تھے۔جب ان پر اعتراض ہوا تو کہدیا ہمیں حضرت صاحب سے