خطبات محمود (جلد 6) — Page 483
۴۸۳ 90 عبد اللہ بنو ٠١٩٢٥ د فرموده ۱۶ جولائی نشات ، تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔"چونکہ آج وقت میں دیر ہو گئی ہے۔اس لیے میں مختصر الفاظ میں خطبہ کا مضمون بیان کرتا ہوں۔مگر اس اختصار سے مضمون کو مختصر خیال نہ کرو۔گوئیں نے بار بار اس مضمون کی طرف توجہ دلاتی ہے نگر بار بار دہراناکسی چیز کی اہمیت کو کم کرتا ہے نہ ضرورت کم ہوتی ہے۔بلکہ ضرورت کم اسی وقت ہوتی ہے جب ضرورت پوری ہو جائے محض علاج کرنے سے دوا کی ضرورت کم نہیں ہوتی۔اگر پچاس دفعہ دوائی پلانی پڑے۔تو اس کی ضرورت اور اہمیت کم نہیں ہوتی۔یہاں تک کہ مرض دور ہو جائے۔جب بیماری دور ہوگی۔تو دوائی کی ضرورت بھی کم ہوگی۔میں جس مضمون کے متعلق توجہ دلاتا ہوں۔اس کی ضرورت بھی کم نہیں ہوتی۔وہ ایسی اہم بات ہے کہ ایک مسلم کے اولین فرضوں میں سے ہے۔وہ ضرورت کیا ہے ؟ وہی ضرورت ہے جس کے پورا کرتے کے لیے انسان پیدا کیا گیا۔جیسا کہ فرمایا - وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالإِنسَ إِلا لِيَعْبُدُونِ الدايت العلم انسان اس لیے پیدا کیا گیا ہے کہ عبد بنے۔مگر عیب دینے کے لیے یہی کافی نہیں کہ وہ خود نماز پڑھے۔روزہ رکھے۔بلکہ ضروری ہے کہ خود بھی عید بنے۔اور دوسروں کو بھی عبد بناتے تب عبداللہ بن سکتا ہے غور کرو ایک بادشاہ کے ملک میں باغی چڑھے آرہے ہوں۔اور اس کے دارالخلافہ کی طرف دم بدم بڑھ رہے ہوں۔اس وقت رعایا کے لوگ وفد بنا کر بادشاہ کے پاس بھیجیں۔اور اس کو اطمینان دلائیں کہ ہم حضور کے وفا دار ہیں مگر بیٹھے رہیں تمام اپنے گھر میں کیا بادشاہ ایسی رعایا کو وفادار یقین کر سکتا ہے ہرگز نہیں۔بلکہ وہ یہی کہے گا کہ یہ تمام باغی ہیں۔اور دشمن سے ساز باز رکھتے ہیں۔پس اسی طرح اللہ کے عبد کے یہ معنے نہیں کہ خود ہی عبادت کرے۔بلکہ یہ معنے ہیں کہ دوسروں کو بھی حلقہ عبودیت میں لائے۔اگر غیروں کی شرارت کو دیکھ کر یہ نہیں چاہتا کہ ان سے شرارت چھڑائے