خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 455 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 455

۴۵۵ غلط ہے۔گندی سے گندی چیز میں بھی کچھ نہ کچھ نفع ہوتا ہے۔یہ علیحدہ بات ہے کہ اس کے نفع کو نہ سمجھ سکتے ہوں۔پس یہ حقیقت ہے کہ بڑی سے بڑی چیز بھی قلیل سے قلیل نفع رکھتی ہے۔مثلاً بدیاں ہیں فیسقی و فجور ہیں۔یہ تمام مضر اور نقصان دہ باتیں ہیں۔مگر جیسا کہ خدا نے شراب اور جوئے کے متعلق فرمایا۔إنهما أكبرُ مِن نَفْعِهِمَا البقرة : ان چیزوں میں بھی نقصان ہے، لیکن ان کے اثرات جب ان کے مرتکبین پر ظاہر ہوتے ہیں تو وہ دوسروں کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہو جاتے ہیں پس نفع و نقصان کا مقابلہ کرنا ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے ہاں موازنہ رکھا ہے جس سے ظاہر کرتا ہے کہ کتنی بھلاتی ہے پاکستنی برائی۔امن اور اتحاد کے لیے بڑی بات یہ ہے کہ ہر ایک چیز میں برائی اور بھلائی دیکھی جاتے جی میں زیادہ بھلائی ہو اس کو قبول اور دوسری کو ترک کر دیا جائے۔بہت لوگ ہوتے ہیں کہ اس بات کا اندازہ نہ کر کے ٹھوکر کھاتے ہیں۔مثلاً ایک شخص نے دس روپیہ کسی سے لینے ہیں جو دیتا نہیں۔اس طرح معروض کا ایمان خراب ہوتا ہے۔مگر جس شخص کا روپیہ واجب ہے۔وہ اس سے مطالبہ کرنے میں حد سے متجاوز ہو جاتا ہے۔اور دس روپیہ کی خاطر اتحاد و اتفاق کو قربان کر ڈالتا اور فساد کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔اب ظاہر ہے کہ جب دس دس روپیہ کی خاطر فساد پڑنے لگیں۔اور بڑھتے جائیں تو اتحاد کا وجود نہیں رہ سکتا۔اور سیاست تباہ ہو کر جماعت خاک میں مل سکتی ہے۔پس تفرقہ پڑنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہوتی ہے۔کہ لوگ اندازہ نہیں کرتے کہ بڑی چیز کونسی ہے اور چھوٹی کونسی۔ایسے موقع پر بعض لوگ کہا کرتے ہیں۔ہم تو حق لینا چاہتے ہیں۔اور بعض جو اس کے طرف دار ہوتے ہیں کہتے ہیں کہ اس کا حق دلواتے ہیں، لیکن وہ اس بات کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ کہیں زید کا حق دلوانے میں بکر کا۔خالد کا حق تو ضائع نہیں کرتے۔اگر ایک شخص کا حق دلوانے میں سو کا حق ضائع ہوا۔تو پھر ایک کا حق کوئی چیز نہیں۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ لوگ اس بات کو عموماً نہیں سمجھتے۔یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہتے کہ حق بھی دو طرح کے ہوتے ہیں۔ایک حق بمعنی صداقت دوسرے کسی کا مطالبہ یا لین دین۔وہ حق جس کے معنے صداقت کے ہوتے ہیں۔وہ تو ہر وقت اور ہر حال قابل اتباع ہوتا ہے مگر پہلی قسم کے حق کی بہت دفعہ قربانی ہی کرنی پڑتی ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ بعض دفعہ سمجھدار لوگ بھی اس بات کی پروا نہیں کرتے اور آپس میں جھگڑتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دو پارٹیاں ہو جاتی ہیں جس سے جماعت کا اتحاد ضائع ہو جاتا ہے۔اگر ایک شخص کسی کو گالی دیتا ہے۔تو وہ اس کے