خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 41

محاسبہ کرنے کے لیے یہ نہایت ضروری ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ پیشتر اس کے کہ خدا تمہارا محاسبه گر سے تم خود اپنے نفسوں کا محاسبہ کر دیا کیا پتہ ہے کہ ایک ایسی چیز جو تمہارے پاس نہیں چاہیئے تھی وہ آگئی ہو اور جو چاہتے تھی اسے تم بھول گئے ہو۔اس لیے ضروری ہے کہ پہلے خود اس کا محاسبہ کرو اور اس کے لیے میں نے بتایا ہے کہ جب تک اعمال کے کئی حصے نہ مقرر کئے جائیں اور پھر ان کے جو اجزاءہ ہیں ان کو نہ لیا جائے اس وقت تک محاسبہ ہو ہی نہیں سکتا۔پیس انسان کو چاہیئے کہ ان سب کو سامنے لاتے اور دیکھے کہ کن باتوں کے کرنے کا اسے حکم دیا گیا ہے مگر وہ نہیں کرتا۔یا کن سے اُسے روکا گیا ہے مگر وہ نہیں لگتا ، اس کے بعد اسے معلوم ہو جائے گا کہ وہ کون سی شگافیں اور دراڑیں ہیں کہ جن کی وجہ سے مکان کا پورا پورا فائدہ اسے نہیں پہنچتا تھا کیونکہ بعض ضروری اور اہم مسائل رہ گئے تھے۔بعض کام کرنے کے تھے جو نہیں کرتا تھا۔اور بعض نہیں کرنے کے تھے جو کرتا تھا تو تکمیل ایمان کے لیے محاسبہ ضروری ہے اور محاسبہ اس وقت تک ہو نہیں سکتا۔جبتک کہ اعمال کو تقسیم نہ کیا جائے ، اس لیے تقسیم اعمال ضروری ہے۔میرا منشاء ہے کہ اس تقسیم میں سے پہلے میں اوامر کولوں اور اوامر میں سے بھی ان کو پہلے بیان کروں جو ہندوں کے مخلوق کے معاملات کے متعلق ہیں۔کیونکہ یہ در حقیقت ان معاملات کی تکمیل کیلئے ضروری ہیں جو بندہ کو خدا کے لیے کرنے پڑتے ہیں۔پھر اللہ تعالے چاہیے تو اس حصہ کے متعلق کچھ مثالیں بیان کروں گا جو بندوں کے خدا کے معاملات کے متعلق ہیں۔پھر نواہی میں سے پہلے ان کو لے لیا جائے گا جو بندوں کے مخلوق کے ساتھ ہیں۔پھر وہ جو بندوں کے خدا کے ساتھ ہیں۔یا ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ پہلے ان اوامر کو لیا جائے جو بندوں کے بندوں کے ساتھ ہیں۔پھر ان نوا ہی کو لے لیا جائے جو بندوں کے بندوں کے ساتھ ہیں۔اس کے بعد بندوں کے خدا کے متعلق جو اوامر ہیں ان کو لیا جائے اور پھر خدا کے متعلق جو نوا ہی ہیں ان کو لے لیا جائے لیکن پہلے اوامر کو لیتا ہوں پھر نواہی کولوں گا۔اوامر کے متعلق جو نہایت اہم اور ضروری احتیاط ہے اور نواہی کے متعلق بھی یہی ہے بلکہ تمام اعمال کے متعلق یہی ہے کہ انسان کسی چیز کو چھوٹا نہ سمجھے کیونکہ در حقیقت کوئی چیز چھوٹی ہے نہیں کوئی نہیں جانتا کہ کسی چیز کے کیا نتائج نکلیں گے۔بہت دفعہ ایک چیز کو نہایت معمولی اور چھوٹی سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کے نتیجے بہت بڑے خطرناک نکل آتے ہیں۔اسی طرح کئی بار ایک چیز کو بڑا اور غیر معمولی قرار دیا جاتا ترمذی کتاب القیامة