خطبات محمود (جلد 6) — Page 407
76 تازہ بشارتیں آب یقیں سمجھو کہ آئے کفر کو کھانے کے دن ا فرموده ۵ر مارچ ۱۹۲ته حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- دُنیا میں کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ خدا کی رحمت روک لی جاتی ہے۔پھر وہ لوگ جو غرور سے زمین پر قدم نہ رکھتے تھے۔ان کی حالت ایسی کرتی ہے کہ دشمن کو بھی ان پر رحم آتا ہے۔اس وقت خدا کی رحمت کا نزول ہوتا ہے۔وہ قوم جس کو مایوسی کھا رہی تھی۔اس کی مایوسی خوشی سے بدلتی ہے۔ان کے چہرے چکنے لگتے ہیں۔وہ قوم جس کا سر نہیں اُٹھ سکتا تھا۔وہ قوم جس کی پشت خمیدہ ہوگئی تھی۔وہ قوم جس کے چہروں کا رنگ زرد تھا۔پھر وہ قوم جس کو پرائے تو پرائے اپنے بھی ذلیل سمجھتے تھے۔ایک ڈھلے ہوئے شاداب سبزے کی طرح ہو جاتی ہے۔اس کی وہ پست ہمتی اور کمزوری جاتی رہتی ہے۔ان کی نظر وسیع اور ارادے بلند ہو جاتے ہیں۔اس سال جس میں بارش بند تمام علاقہ کی حالت بہت خراب ہوتی ہے اور سُورج پر غبار سا پڑا ہوا نظر آتا ہے۔مگر جب بارش ہو جاتے۔سورج کا چہرہ بھی صاف چکتا ہوا نظر آنے لگتا ہے۔اور ایک ہی رات میں تمام جانداروں میں ایک نئی جان پڑ جاتی ہے۔اسی طرح قوموں میں تغیر حالات ہوا کرتا ہے۔جب خدا کا فضل مردہ قوموں پر ہوتا ہے تو ایک منٹ میں ان کی مایوسی کی حالت بدل جاتی ہے۔جیسا کہ بیمار خواہ کیسا ہی شدید درد میں مبتلا رہا ہو لیکن جب اس کو صحت ہو جاتی ہے تو وہ خود بھی نہیں سوچ سکتا کہ کیسا درد تھا اور کتنا تھا۔بلکہ جب صحت ہو جاتی ہے تو وہ حیران ہوتا ہے۔کہ میں یونسی اس وقت گھبرا گیا تھا۔یہ ایک سبق ہے۔ان قوموں کے لیے جن کی حالت گری ہوئی ہوتی ہے۔اس زمانہ میں خدا نے دکھا دیا ہے کہ اگر کوئی قوم دنیا میں مردہ ہے تو مسلمانوں کی ہے۔اس