خطبات محمود (جلد 6) — Page 367
68 جلسہ پر آنے کی غرض پوری ہونی چاہیئے د فرموده ۲ جنوری ته ) حضور نے تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔زمانہ کے تغیرات اس انسان کے لیے جو دل رکھتا ہے۔اور اس کے لیے جیسے فکر کی عادت ہے۔ایک عجیب سبق آموز چیز ہیں۔ان کے اندر عبرتیں ہیں۔ان کے اندر وعظ ہیں۔ان کے اندر نصیحتیں ہیں۔جہاں ترقیات کے ذرائع ہوتے ہیں۔وہاں تنزلات سے بچنے کے لیے تدابیر بھی ہیں۔اور ہر ساعت جو انسان پر گزرتی ہے۔ہر دن جو انسان پر طلوع ہوتا ہے۔ایک استاد ہوتا ہے۔ایک رہنما ہوتا ہے وہ گزر جاتا ہے، لیکن جس طرح میدان میں مرنے والا گزرتا ہے اور پیچھے والوں کے لیے فائدہ کا موجب ہو جاتا ہے اسی طرح وقت کی گھڑی مرجاتی ہے مگر دوسرے کیلئے مفید اور با برکت چیز ہو جاتی ہے۔وقت گزرنا مجھے بعینہ ایسا معلوم ہوتا ہے۔جیسا کہ مونگے کا جزیرہ بنتا ہے۔ایک کیڑے پر دوسر کیٹ امرتا چلا جاتا ہے اور بے شمار اس طرح ایک دوسرے پر مرتے رہتے ہیں اور ایک بڑے زمانہ کے بعد وہ ایک جزیرہ بنکر سطح مندر پر نمودار ہو جاتا ہے جس پر لاکھوں آدمی بہتے ہیں۔یہ اتنا بڑا جزیرہ کہاں سے بن گیا ؟ ان چھوٹے چھوٹے حقیر کیڑوں کے جسموں سے جو انفرادی شکل میں بہت ہی اد تی چیز تھے۔وہ ایک دوسرے پر مرتے اور ہزاروں سالوں کے بعد سمندر سے ایک ایسا جزیرہ بنکر نکلے۔کہ اس پر آدمی لیستے اور آباد ہوتے ہیں۔وقت کی گھڑیاں بھی مونگے کی طرح ایک دوسرے پر مرتی چلی جاتی ہیں۔ان سے بھی آدمی فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔مگر وہی یہ فائدہ اُٹھانے کی کوشش کریں۔اور جو شخص فائدہ نہ اٹھائے۔اس کے لیے گزرنے والی گھڑیاں اس فوج کی طرح ہوتی ہیں جو شکست کھاتی ہے۔کہ اس کا ہر ایک مرنے والا صف کو خالی کرتا چلا جاتا ہے۔اور شکست اس کے قریب ہوتی جاتی ہے۔اسی طرح گھڑیاں گزرتی ہیں۔اور اس کے ساتھ ہی خطرہ اور شکست قریب ہوتی چلی جاتی ہے۔مگر جن سے فائدہ اُٹھایا جائے