خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 342

۳۴۲ لفظوں کا نتیجہ دیکھ لوکہ تیرہ سو برس میں انصار کی کوئی بھی حکومت نہیں ہوئی۔الانکہ انصا وہ لوگ ہیں جن پر حضت نبی کریم علی التعلیم و او را با تاتا اور نین میں بعض نوجوانوں نے بڑا بول بولا۔اور ان میں مجب آگیا۔خدا تعالیٰ نے اس موقع پران کو تنبیہ کرنی چاہی۔اور میدان میں ان کا قدم اکھٹر گیا۔حالانکہ مسلمانوں کی تعداد اس وقت بارہ ہزار سے زیادہ تھی۔اور دشمن کی تعداد دو تین ہزار سے زیادہ نہ تھی۔اس وقت ایسی حالت ہوئی کہ صحابہ کہتے ہیں کہ نہیں معلوم نہ تھا کہ ہمارے گھوڑے کدھر جا رہے ہیں۔میدان میں میں اس وقت صرف رسول کریم اور سات آٹھ اور تشخص باقی رہ گئے تھے۔اس وقت حضرت عباس آگے بڑھے۔اور آنحضرت کے گھوڑے کی باگ کو پکڑ لیا اور کہا کہ حضور اب پلٹ چلیں۔اب مقابلہ کا وقت نہیں۔حضور نے فرمایا کہ خدا کے نبی میدان میں آکر پیچھے نہیں ہٹا کرتے۔چونکہ حضرت عباس کی آواز بلند تھی۔اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کو کہا کہ انصار کو آواز دو کہ اسے انصار تمہیں خدا کا رسول جلاتا ہے اس وقت جبکہ سب فوج تتر بتر ہوگئی تھی۔آپ مہاجرین کو آوازہ نہیں دیتے۔بلکہ آپ انصار کو پکارتے ہیں۔حضرت عباس نے آواز دی۔صحابہ کہتے ہیں کہ ہمیں ایسا معلوم ہوا کہ گویا صورا سرافیل پھونکا جارہا ہے اور یہ عباس کی آواز نہیں بلکہ خدا کی آواز ہے۔تمام لوگ پلٹ پڑے۔اور گھوڑوں اور اونٹوں کو پیچھے پھیرنا شروع کر دیا، لیکن حالت اس وقت یہ تھی کہ اونٹ مہار کے کھینچنے سے دوہرے ہو ہو جاتے، لیکن واپس نہ پیٹنے آواز دم بدم بند ہوتی گئی۔اس پر جو اونٹ اور گھوڑے پھرتے نہ تھے۔ان کے سواروں نے تلواریں کھینچ کر ان کی گردنیں اڑا دیں۔اور پیدل ہو کر حضور کی طرف آگئے لیے پس اس واقعہ پرابھی چند دن نہ گزرے تھے کہ وہ واقعہ پیش آیا جس کا ذکر ہوا۔اور ان چند لفظوں نے کیا ہے پیدا کیا ہے چونکہ انصار مومن تھے۔اس لیے دنیاوی نتیجہسے محروم رہے اور خدا نے ان کا ایمان بچالیا اگر دیکھو انہوں نے کن دقتوں سے یہ رتبہ حاصل کیا تھا۔اور کھونے میں ذرا بھی دیر نہ گی۔پس بہت ہوشیار اور چوکس رہنا چاہیے۔کیونکہ برسوں میں حاصل کی ہوئی چیز منٹوں میں ضائع ہو جاتی ہے یادرکھو۔خدا کے مقابلہ میں علم کام ہیں آتے۔دنیادی اور دینی رتبہ بھی کچھ کام نہیں آتے۔خاندان کا نہیں آتے۔غرض خدا کے مقابلہ میں کوئی بڑائی کام نہیں آتی۔اگر کوئی ان باتوں پر گھمنڈ کرتا ہے تو غلطی کرتا ہے۔چاہتے کہ اللہ کے حضور میں انکسار ہو۔اور ایمان کی حفاظت کے لیے کوشش اور دکھا ہو۔اسد تعالی آپ لوگوں کی آنکھیں کھولے اور آپ کو سمجھ دے کیونکہ وہ ایمان جو برسوں میں حاصل ہوتا ہے سیکنڈوں میں ضائع ہو سکتا ہے۔اگر اس کی حفاظت نہ کی جائے۔الفضل یکم دسمبر 11 سیرت ابن ہشام جلد ۲ حالات غزوة حنين