خطبات محمود (جلد 6) — Page 340
اس غریب کے لیے وقت کا فاقہ برداشت کرنا کچھ بھی مشکل نہیں مگر دوسرا شخص جو ناز و نعمت میں پلا ہو۔نرم اور گرم بستروں پر سونے کا عادی ہو۔اگر اس کے گھر چور آپڑیں۔تو اس کا بہت نقصان ہو گا۔اور اس کی زندگی تلخ ہو جائیگی۔کیونکہ آرام کے بعد تکلیف سخت معلوم ہو ا کرتی ہے۔پس جنہوں نے کسی قدر ترقی کی ہے۔وہ زیادہ خطرے میں ہیں۔ان لوگوں کی نسبت جنھوں نے کوئی ترقی حاصل ہی نہیں کی۔کیونکہ کرنے کا خطرہ ترقی یافتوں کے لیے ہے۔دوسروں کیلئے نہیں۔دوسری وجہ ترقی یافتہ لوگوں کے خطرے میں ہونے کی یہ ہوتی ہے۔کہ ان کو نعمت کے گم ہونے کا پتہ نہیں لگتا۔جو لوگ ترقی کرتے ہیں۔ساتھ ہی ایک قسم کی غفلت ان کو پکڑلیتی ہے جس کے زیر اثر وہ چیز کے گم ہونے سے بے خبر رہتے ہیں۔اور آہستہ آہستہ ان سے وہ نعمت گم ہوتی رہتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کہیں سے کہیں چلے جاتے ہیں۔اور اس بیماری کو محسوس بھی نہیں کرتے حتی کہ مرض ان کا خاتمہ کر دیا ہے۔چھوٹی چھوٹی باتیں ان کے ایمان کو ضائع کرتی رہتی ہیں اور وہ غافل رہتے ہیں جتی کہ ان کا سارا ایمان ضائع ہو جاتا ہے۔ایک بھو کا اگر جنگل میں جا رہا ہو، تو وہ کوشش کریگا، نہر کی آبادی میں جاتے اور کھانا مہیا کرے لیکن وہ شخص جو ہر قسم کے کھانے گھر سے پکوا کر ساتھ لے چلا ہو۔مگر راستہ میں وہ گم ہوگئے ہں جس کا اسے علم نہ ہو۔تو وہ آبادیوں میں سے گزارے گا۔مگر اپنے کھانے کے لیے کچھ فکر نہ کریگا۔کیونکہ با وجود کھانا پاس نہ رکھنے کے اسی خیال میں ہو گا۔کہ اس کے پاس کھانا ہے۔پس حاصل کرنے والا ہی کھوتا ہے جس نے حاصل ہی کچھ نہ کیا ہو۔وہ کیا کھوئیگا۔پس میں اپنی جماعت کے لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنی حالت کا محاسبہ کرتے۔اور اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے دُعائیں کرتے رہا کریں۔کیونکہ وہ دوسروں کی نسبت زیادہ خطرہ میں ہیں۔ان پر یہ خدا کا فضل ہے۔کہ انہوں نے مسیح موعود کو قبول کیا۔اور اس ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر اعمالِ صالحہ کے دروازے کھول دے بیکن اگر یہ غفلت کریں تو ان کے لیے بہت خوف کا مقام بھی ہے۔کیونکہ آئندہ کے لیے کوشش اور موجودہ حالت میں ہو شیاری کی ضرورت ہے۔پس آپ لوگوں کیلئے یہ ایسا موقع ہے کہ پھونک پھونک کر قدم رکھیں۔اور دیکھتے رہیں کہ کہیں ایمان جاتا تو نہیں رہا۔حضرت موسی کے قصہ میں اس کی مثال موجود ہے اور حضرت اقدس مسیح موعود اس قصہ کو بار با بان فرمایاکتے تھے۔کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ جب مصر سے نکلے تو راستہ میں عمالیق سے مقابلہ آن پڑا۔ان کے بادشاہ کو خطرہ ہوا کہ ہم شکست کھا جائیں گے۔ان کے ہاں ایک بزرگ تھا۔بادشاہ نے اس سے دعا کی درخواست کی۔اس نے دعا کی۔تو خدا کی طرف سے الہام ہوا کہ موسیٰ خدا کا نبی ہے۔اس کے خلاف رکھا نہیں کرنی چاہیئے۔اس نے بادشاہ