خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 289

۲۸۹ اب بھی مسیح موعود نے جو جماعت قائم کی ہے۔اس کو خدا نے نمونہ بنایا۔اور اپنے زندہ نشانوں کے ذریعہ اس پر اپنے جلال کا اظہار کیا ہے۔اور لوگوں نے مسیح موعود کو دیکھ کر خدا کو دیکھا ہے۔کیونکہ مسیح موعود مظهر آیات تھے۔اور پھر وہی دیکھا ہے جو موسیٰ کے وقت موسیٰ کی قوم نے دیکھا۔اور میسج کے وقت مسیح کے صحابہ نے۔غرض آدم سے لیکر محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک جتنے نبی آئے۔اور ان کے ذریعہ جو کچھ ظاہر ہوا۔وہ سب کچھ دکھایا گیا۔اور اس ذریعہ سے خدا پر کامل ایمان پیدا کیا اور یہ خدا کا خاص فضل ہے۔جو مسیح موعود کے ذریعہ آیا۔کیونکہ مسیح موعود کی بعثت بھی خدا کے فضل کے ہی ماتحت ہوتی۔لیکن آپ لوگوں نے مسیح موعود کو قبول کیا۔اس میں آپ کو بہت تکلیفیں بھی برداشت کرنی پڑیں۔کیونکہ فضلوں کے جاذب عمل ہوتے ہیں بعض تم میں سے قتل کئے گئے اور بہتوں کو جائیدادوں سے علیحدہ کیا گیا۔اور اکثروں پر کتنی قسم کے مظالم کئے گئے۔غرض آپ لوگوں نے ان سب دکھوں کو برداشت کیا۔اور اس فضل کو قبول کیا۔جوسیح موعود کی صورت میں نازل ہوا۔اتنی دقتوں کے بعد یہ چیز آپ کو حاصل ہوئی ، لیکن اس کا قائم رکھنا بھی مشکل ہے۔کیونکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے۔عزت اور مرتبہ کا حاصل کرنا مشکل ہونے کے باوجود ر آسان ہے۔یہ نسبت اس کے کہ حاصل کردہ رتبہ کو قائم رکھا جائے۔دیکھو حضرت مسیح کی اُمت گمراہ ہوئی۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تیار کردہ جماعت میں خرابی پیدا ہوئی۔اور حضرت مسیح موعود کے ذریعہ جو جماعت تیار ہوتی ہے۔اس پر بھی یہ دن آتا ہے۔اس وقت ان کی اصلاح کے لیے خواه مسیح موعود کے خادموں سے ہی کوئی مصلح پیدا ہو۔اور قبل اس کے کہ وہ گھڑی کھڑی ہو جیسے قیامت کہتے ہیں۔ضرورت کے وقت ضرور ایسا ہی ہو گا۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے خود فرمایا ہے کہ آپ کے ہی غلاموں سے مصلح پیدا ہو گا۔پس کوئی جماعت نہیں۔جس نے حاصل کردہ کامیابی اور عزت کو قائم رکھا ہو۔یہ بیچ ہے کہ نبی کریم کے ذریعہ جو جماعت تیار ہوئی اس نے اپنی عزت کو قائم رکھا۔اور خود ضائع نہیں کیا۔پھر وہ لوگ جو صحابہ کی محبت اُٹھانے والے تھے۔انہوں نے بھی بہت حد تک اس کامیابی اور عزت کو قائم رکھا۔اور پھر وہ لوگ جنھوں نے ان کی صحبت اُٹھائی۔وہ بھی بہت حد تک اچھے رہے ، لیکن ان کے بعد ناخلف پیدا ہوئے۔اور انہوں نے اس کامیابی اور عزت اور فضل کو کھونا شروع کر دیا۔کیونکہ وہ نبی سے فاصلہ پر جا پڑے تھے۔یہ قدرتی تھا۔جو ان کیلئے پیش آیا، لیکن اگر کوئی جماعت خود حاصل کرے۔اور خود ہی کھو دے تو اس پر بہت ہی افسوس