خطبات محمود (جلد 6) — Page 288
۲۸۸ اور اس وقت ایسی حالت کو پہنچ جائیں گے کہ یہود کے مشابہ ہو جائیں گے یے اور ان کے قدم بقدم چلیں گے۔یوڈ" اگر چہ انبیا ء کی اولاد ہیں۔اور ایک وقت میں یہ لفظ معزز تھا۔مگر اپنے اعمال کی وجہ سے یہ لوگ ایسے گر گئے کہ آج کوئی مسلمان یہودی کہلانا پسند نہیں کرتا، لیکن رسول کریم نے فرمایا کہ ایک وقت میں مسلمانوں کی حالت بھی بالکل ان ہی کے مشابہ ہو جائیگی اور کوئی بدی اور بدکاری نہ ہو گی جو سیود نے کی ہو اور مسلمان اس سے بچ جائیں۔آج دیکھ لو۔کیا مسلمانوں کی یہ حالت نہیں ہے وہ مسلمان جو روحانیت کا مجسم نشان سمجھے جاتے تھے۔روحانیت سے بالکل خالی ہیں۔پہلے لوگ سوچ سمجھ کر ہر عمل کرتے تھے لیکن ان کو ایک سرے سے دوسرے سرے تک دیکھتے جاؤ۔بندروں کی طرح نقل کرتے نظر آئینگے نماز پڑھتے۔روزے رکھتے ہیں مگر ان کی حقیقت سے غافل ہیں۔حج کرتے ہیں ، لیکن ان کا حج میلے سے کم نہیں ہوتا۔” میں نے حج کے دنوں میں ہندوستانی حاجیوں کو خود دیکھا ہے کہ وہ ان اوراد کی بجاتے جن کا پڑھنا ضروری ہے عشقیہ اشعار پڑھتے چلے جا رہے تھے۔پھر عرفات میں کہ جہاں دُعا مانگنے کا نام ہی حج ہے۔وہاں میں نے دیکھا کہ لوگ پھل اور مٹھائیاں کھانے میں مشغول تھے۔زیادہ سے زیادہ یہ کرتے تھے کہ جب خطیب کھڑا ہوتا تو کپڑا ہلا دیتے۔پھر طواف کرتے وقت خود مجھ سے ایک واقعہ ہوا۔طواف کرتے ہوئے حجر اسود کو بوسہ دینا آسان نہیں ہوتا۔کیونکہ بہت ہجوم ہوتا ہے۔میں بڑی دقت سے حجر اسود تک پہنچا۔اتنے میں پیچھے سے آواز آئی "حریم حریم " جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ عورتیں آتی ہیں۔راستہ کر دو۔یہ عام قاعدہ ہے کہ عورتیں چونکہ کمزور ہوتی ہیں۔اس لیے ان کے لیے جگہ خالی کرنا ہر شخص کا اخلاقی فرض ہوتا ہے۔میں پیچھے ہٹ گیا۔اس پر ہٹے کٹے چھ چھ فٹ کے نوجوان حجر اسود کو بوسہ دے کر ہنستے ہنستے گزر گئے۔ان کے ہنسنے کا یہ مطلب تھا کہ دیکھا ہم نے کیسی چالا کی اور آسانی سے حجر اسود کے بوسہ دینے کے لیے جگہ نکلوالی۔یہ ایک مبارک کام انہوں نے جھوٹ کے ذریعہ کیا، پھر قاعدہ ہے کہ حجر اسود کے دونوں طرف سپاہی کھڑے رہتے ہیں۔کیونکہ جب لوگ حجر اسود کو بوسہ دیتے ہیں۔تو چور روپیہ وغیرہ کاٹ لیتے ہیں۔جب یہ حال ایک نہایت متبرک جگہ اور متبرک کام کرتے ہوئے ہے تو دوسری باتوں کا اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔غرض دنیا میں جو کسی قوم نے شرارت کی ہے وہ ان میں پائی جاتی ہے۔له مشكوة كتاب الانذار والتحذير باب تغير الناس