خطبات محمود (جلد 6) — Page 276
جس طرح پہلے عذاب نہیں رہے اسی طرح یہ غذا بھی دنیا کو لاکر چلا جائیگا۔اس میں تو خدا نے یہ بتایا ہے کہ انسان کسقدر محتاج ہے، لیکن بعض لوگ اپنی نادانی اور جہالت سے اس کا نام فلسفہ رکھتے ہیں۔اور اس کے نتیجہ میں خود پسندی اختیار کرتے ہیں اور اس کا نام نبا علم رکھ کر تکبر کرتے ہیں۔اور اپنے آپ کو بڑا بتاتے ہیں اور دوسرے کی فرمانبرداری کو ہتک خیال کرتے ہیں۔یہ ان کی نادانی اور جہالت ہے۔ایسانہیں یاد رکھو کہ اتباع اچھی بات کی کی جاتی ہے۔عذابوں کی اتباع نہیں کی جاتی۔لوگوں میں عادت ہے کر بعض لوگ اگر ایک خاص قسم کا کوٹ یا قمیض یا پاجامہ پہنیں تو ور لوگ بھی اسی طرح کے کپڑے پہنے اور بھی اس لگیں گے ، لیکن تم نے یہ نہیں دیکھا ہوگا کہ کہیں مہینہ پڑا ہو۔اور لوگ اس خیال سے مرنے لگیں کہ ہیضہ میں مرنا بھی ایک فیشن ہے۔پاجامہ پہننے لگتے ہیں کہ ایک فیشن ہے، لیکن جن دنوں طاعون پھوٹا ہو ایسا نہیں کرتے کہ طاعون کے کیڑے لے کر کھا جاتیں اور مر جائیں۔ایم۔اسے اور بی۔اسے ہوتے ہیں لیکن انظر انزا میں مرنا شروع نہیں کرتے کہ ہماری اولاد اس کا فخر کرے گی کہ ہمارے بڑے انفلوائنزا میں مرے تھے ان کو کیوں نہیں فیشن کی طرح اختیار کرتے۔اس لیے کہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ انفلوائنزا ایک عذاب ہے۔جس طرح به امراض ایک جسمانی عذاب ہیں۔اسی طرح تکیر ایک روحانی عذاب ہے۔لوگ جسمانی عذاب کی نقل نہیں کرتے ، روحانی کی کرتے ہیں۔جو لوگ تکبر کرتے ہیں۔ان کی ایسی ہی مثال ہے۔جیسا کہ چیتا اپنی زبان کو کسی گھردری چیز پر گئے اور اس میں سے خون نکلے اور وہ اس کو چائے اور خیال کرے کہ کیا مزا آتا ہے۔اگر چہ اب وہ مزا لیتا ہے ، لیکن در حقیقت وہ اپنی زبان کھا رہا ہے۔کچھ مدت تو مزا آتے گا اور نتیجہ اس کی موت ہو گی۔میں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اچھی باتوں کو اخذ کریں۔جو باتیں دین کے اور اخلاق فاضلہ کے خلاف ہوں۔ان کو چھوڑ دو۔خود پسندی کو چھوڑ دو۔اطاعت اسلام کے ماتحت عزت کی چیز ہے۔اس پر قدم مارو۔اور تکبر ایک ایسی بلا ہے جو تمہیں خطر ناک گڑھوں میں گرا دیگی۔جس میں اطاعت نہیں وہ سلم نہیں۔جوسلم نہیں وہ مومن نہیں جو مومن نہیں وہ کافر ہے۔خواہ وہ امری الفضل در اگست ۱۹۱۹ته ) ہی کہلاتا ہوتا