خطبات محمود (جلد 6) — Page 263
کرنے لگ گئے۔ایسے وقت میں جبکہ دنیا پر وہی تاریخی کا زمانہ آگیا۔جو رسول کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کے وقت تھا اور جس کے متعلق پہلے انبیا۔خاص طور پر خبرد نے پہلے انبیا۔خاص طور پر خبر دیتے رہے تھے۔تو خدا تعالیٰ نے حقیقی اسلام کو قائم کرنے کے لیے رسول تحریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بروز بھیجا۔دنیا نے اس کی قدر کی یا نہ کی۔اس کا حال اسی پر اللہ تعالیٰ نے بذریعہ الہام اس طرح کھولا کہ :- " دُنیا میں ایک نذیر آیا۔پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا ، لیکن خُدا اسے قبول کریگا اور بڑے زویر اور جملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا ہے اس الہام کے ماتحت کس کس طرح دنیا نے اس فرستادہ خدا کو رد کیا۔اس کی تفصیل کی اس وقت ضرورت نہیں کیونکہ میں اس مضمون کو بیان کرنے کے لیے کھڑا نہیں ہوا۔پھر اس کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ نے کیسے کیسے زور آور حملوں سے اس کی سچائی کو ثابت کیا۔اور کس کس طرح اس کے دشمنوں کو ہلاک اور تباہ کیا۔اس کے بیان کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔کیونکہ اس کے لیے بھی میں کھڑا نہیں ہوا، لیکن شاید ہی کوئی نا واقف سے ناواقف اور مرکز سلسلہ سے تعلق نہ رکھنے والا احمدی ایسا ہوگا جسے اس انکار اور مقابلہ کی خبر نہ ہو۔جو دنیا نے حضرت مسیح موعود کا کیا۔اور پھر کوئی ناواقف سے ناواقف ہی ہوگا جس کو ان حملوں کی خبر نہ ہو۔جن کے ذریعہ خدا تعالیٰ حضرت مسیح موعود کی صداقت ظاہر کر رہا ہے مگر سب سے پہلا سوال جو ان حالات اور واقعات کو دیکھ کر پیدا ہوتا ہے۔وہ یہ ہے کہ جنھوں نے حضرت مرزا صاحب کو قبول نہیں کیا۔اور منہ سے رد کر دیا۔انہوں نے جو کیا گیا۔مگران کا کیا حال ہے جنھوں نے منہ سے قبول کیا۔مگر عملی طور پر رد کر دیا۔دیکھو ایک تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے کہا کہ ہم مرزا صاحب کو اس لیے قبول نہیں کرتے ، کہ ہم سیدھے راستہ پر ہیں۔اور وہ گمراہ ہیں۔یہ لوگ زیر مواخذہ ہیں۔کیونکہ انہوں نے خدا کے فرستادہ کو رد کیا۔مگر ان کے درد کرنے میں خدا تعالی کی کچھ نہ کچھ عظمت پائی جاتی ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ ہم اس لیے رو کرتے ہیں کہ ہم حق پر ہیں لیکن وہ شخص جو حضرت مرزا صاحب کو قبول کر لیتا ہے۔وہ اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ پہلے سب ادیان باطل ہیں یا جو ان کے معنے گئے جاتے اور جس رنگ میں ان کو پیش کیا جاتا ہے۔وہ خدا کی منشاء کے مطابق نہیں ہے۔جیسا کہ اسلام ہے۔ایک احمدی اسلام کو رد نہیں کرتا، لیکن اس کے جو معنے مسلمان کرتے ہیں۔اور جس رنگ میں اُسے پیش کرتے ہیں۔اس کو قابل قبول نہیں سمجھتا، کیونکہ وہ ایسا اسلام نہیں۔جو رسول کریم صلی الہ علیہ و آلہ سلم لاتے تذکره صا