خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 250

۲۵۰ جو تاحال پوشیدہ ہیں۔اور وہ بہت ہی زیادہ ہیں کیونکہ جس طرح انسان کے وہ مقاصد تھوڑے ہوتے ہیں۔جن میں وہ کامیاب ہوتا ہے۔اسی طرح انسان کے بہت تھوڑے منصوبے ہوتے ہیں۔جو دنیا کے سامنے آتے ہیں، لیکن خدا ہی ہے جو اپنے بندوں کوان خفیہ منصوبوں سے بچاتا ہے۔اور بندے ان سے قطعاً واقف نہیں ہوتے۔غرض خدا کے احسان جہانتک دیکھا جائے اسی کے علم میں ہوتے ہیں۔کہ کسقدر وہ اپنے بندے پر کرتا ہے۔ورنہ بندہ ان کو خیال میں بھی نہیں لا سکتا۔ایسے احسان اور فضل کرنے والے خدا کے متعلق اگر کوئی بڑھنی کرتا یا اس کی رحمت سے کسی وقت مایوس ہوتا ہے تو وہ اتنا بڑا جرم اور گناہ کرتا ہے کہ جو کبھی معاف نہیں ہوسکتا۔دیکھو اگر کوئی کسی پر جو ایک احسان کرے۔اسکے احسان کی قدر نہ کی جائے تو وہ آئندہ ایسے نا قدر سے انسان پر کوئی احسان نہیں کرتا لیکن حسین کے اتنے احسان ہوں کہ اس کو گنا ہی نہ جاسکے۔اس کے احسانوں کی اگر نا قدری ناشکری کی جائے تو ایسے شخص سے بڑھ کر کون مجرم ہوسکتا ہے۔مگر بہت لوگ ہیں جو خدا سے بہت جلد مایوس ہو جاتے ہیں۔اور اس کی رحمت اور فضلوں کا خیال نہیں کرتے۔بلکہ بعض تو اس قسم کے ہوتے ہیں کہ وہ خدا کی رحمت سے مایوس ہونے کو دین سمجھتے ہیں۔اور ظاہر کرتے ہیں کہ وہ خدا کے خوف کی وجہ سے دنیا میں دل نہیں لگاتے۔مگر یاد رکھو محض خدا کے چون خوف کی اسلام تعلیم نہیں دیتا۔بلکہ یہ کہتا ہے کہ خدا کا خوف اور رجا دونوں ایک وقت میں ہونی چاہئیں اور اس کا نام ایمان رکھتا ہے۔ورنہ ایک وقت میں صرف خوف ہی خوف کفر ہے۔اور خالی امید بھی کفر تک پہنچا دیتی ہے۔ہاں جب دونوں ایک وقت میں انسان کے اندر جمع ہوں۔تب اس کا ایمان کال ہوتا ہے۔ورنہ اگر کوئی شخص ہر وقت حالت خوف میں رہتا ہے اور خدا کے فضلوں کی ایک نہیں رکھتا۔تو وہ گھر کرتا ہے اور خدا سے اس کے فضل کی اس رنگ میں امید رکھنا کہ اپنی غلطیوں اور گنا ہوں کے متعلق اس کی گرفت اور سزا سے بے خوف ہو جانا اور یہ خیال کر لینا کہ خدا اس سے کوئی گرفت نہیں کریگا اور اس کے عذاب سے نڈر ہو جانا یہ گو کفر نہیں لیکن گھر تک پہنچا دیتا ہے۔مومن ان دونوں حالتوں کو اپنے اندر پیدا کرتا ہے۔وہ بھی یہ و ہم بھی نہیں کرتا کہ خدا کی رحمت اسے چھوڑ دیگی۔اور نہ وہ کبھی اس طرح بے خوف ہوتا ہے۔کہ میں خواہ کچھ بھی کرتا چلا جاؤں وہ مجھ کو معاف کر دیگا پس ایمان اس وقت کامل ہوتا ہے۔جب کہ بندہ کے دل میں خدا کا خوف اور اس کی امید دونوں ہوتے ہیں۔خدا نے ہرگز یہ تعلیم نہیں دی کہ تم ہر وقت مجھ سے خوف زدہ ہی رہو۔بلکہ یہ فرمایا ہے کہ خوف بھی رکھو۔