خطبات محمود (جلد 6) — Page 247
۲۴۷ حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں جاگتے تھے۔اور رشتہ داروں کو بھی جگاتے تھے۔بھلائی کے کاموں میں اور بھی مستعدی سے کام لیتے تھے۔اور اپنی کرس لیتے تھے۔گویا کہ وہ پلے ڈھیلی تھی غور کرو یہ کی الفاظ میں کس نے کمر کس لی ؟ اس نے جس کی تمام راتیں جاگنے اور دن عبادت میں گذرتا تھا۔اور ہر ایک گھڑی خدا کی یادمیں بسر ہوئی ہوتی تھی۔خدا تعالیٰ کے ساتھ جن کے تعلیق اور وابستگی کی یہ کیفیت تھی۔ان کے متعلق عائشہ یہ کہتی ہیں کہ رمضان کے آخری عشرہ میں کمر کس لیتے تھے۔اس بات کو عائشہ صدیقہ ہی سمجھ سکتی تھیں۔اور کسی کے لیے اس کی حقیقت سمجھنا آسان نہیں کیونکہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ کمر کھولتے ہی نہ تھے۔اور آپ فرماتے کہ جب میں سوتا ہوں۔تو در حقیقت اس وقت بھی جاگ ہی رہا ہوتا ہوں چنانچہ فرمایا۔میری آنکھیں سوتی ہیں۔مگر دل جاگتا ہے تہے ہیں جب آپ بستر پر جاتے ہیں اس وقت بھی آپ کی کمر نہیں کھلتی۔تو اور کس وقت کھولتے تھے۔در حقیقت یہ قول ایک بہت بڑے معنی رکھتا ہے جو قیاس میں بھی نہیں آسکتے۔اور ان کو وہی سمجھ سکتا ہے جس نے آپ کی محبت اُٹھائی ہو۔بعد میں آنے والے اس کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے۔غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرہ میں راتوں کو جاگتے اور رشتہ داروں کو جگاتے اور خود گر کس لیتے تھے یعنی جن کی کر ہر وقت کسی رہتی تھی وہ بھی کس لیتے تھے، اس سے سمجھ لو کہ جن کی کمر ہمیشہ ڈھیلی رہتی ہے۔ان کے لیے رمضان میں کسقدر توجہ کی ضرورت ہے۔پس میں اپنے تمام دوستوں کو گتا ہوں کہ اپنی اپنی کمریں کس ہیں۔اور خدا کی طرف جھک جائیں میں نے بتایا ہے کہ خدا دینے کو تیار ہے صرف ہماری غلطیاں ہیں اس کے فضلوں سے محروم رکھتی ہیں اس کے فضل کے آنے کے لیے کوئی خاص وقت نہیں، اور اس کے فضلوں کی کوئی حد بندی نہیں۔وہ تو ہروقت دیتا ہے اور دینے کو تیار ہے۔یہ جو خاص گھڑیاں اس نے مقرر فرمائی ہیں۔یہ اسلیئے ہیں کوشست سے منست انسان بھی اس کے فضل سے محروم نہ رہے اور یہ وقت مقرر کر کے اس نے ہم پر احسان کیا ہے پس ان دنوں کو خالی نہ جانے دو۔وہ فضل حاصل کرو جو تمہاری نسلوں کی نسلوں نسلوں کی نسلوں۔نسلوں کی نسلوں کے لیے بہتری اور فلاح کا موجب ہوا اور وہ وعدے جو سیح موعود سے کئے گئے ہیں ہم انکے جاذب ہوں۔ہماری کمزوریاں دور ہوں اور ہیں خدا تعالیٰ اپنے فصلوں کا وارث بناتے غلطیوں کو معاف کرے اور اپنے فضل کی راہوں پر چلائے اللہ تعالی اپنے اور اپنے رسول کریم کے کلام کو مجھے اور اپیل کرنے کی دو مسیح موعود کی اتباع کی توفیقی عمر کے ہر لحظہ میں ہم آگے ہی آگے قدم بڑھائیں اور ہم پر کوئی وقت غفلت اور مستی کا نہ آئے۔آمین یارب العالمین و الفضل ۲۸ جون ۱۹۹) کے له بخاری مسلم بحواله شكرة كتاب الصوم في ليلة القدر : نه بخاری کتاب المناقب باب كان النبي تنام حیفه ولا ينام قلبها شه