خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 237

۲۳۷ 45 قربانیوں کی ضرورت دفرموده ۱۳ جون ۱۹۱۹ یه حضور انور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔ہر ایک سم کی ترقی جو دنیا میں کی کوحاصل ہوتی ہے۔وہ بہت سی قربانیوں کانتیجہ ہوتی ہے۔حقیقت بڑائی کے معنی اس کے سوا کوئی نہیں کہ اس میں یا اس کی خاطر بہت سی چیزوں کی قربانی کی گئی۔اللہ تعالیٰ کی بڑائی اور اس کی شان ہی ایک ایسی شان ہے۔جو اور کسی چیز کی طرف نسبت کئے بغیر بڑائی اور شان ہے باقی سب کی بڑائیاں اور شانیں سب نسبتی اور فیلی ہوتی ہیں۔خداتعالی کبیر تھا۔بلکہ اکب تھا اور ہمیشہ سے تھا اور ہے اور رہے گا۔علیم تھا اور ہے اور رہیگا۔وہ حتی ہے۔تھا اور آئندہ رہے گا۔اس کی بڑائی۔اس کی عظمت اور اس کا علم والا ہونا یکسی نسبت سے قائم نہیں، کسی چیز کے طفیل سے ہے لیکن اس کے سوار یعنی خالق کو علیحدہ کر کے جتنی مخلوق ہے وہ سب کی سب ایسی ہے کہ اس کی تمام ترقیاں نسبتی اور طفیلی ہیں۔اور کوئی بڑائی کسی کی ذات میں بڑائی نہیں۔بلکہ نسبت پا کر بڑائی ہے۔اور کوئی عالم نہیں جب یک دوسرا جاہل تر نظر نہ ہو اور کوئی بڑائی ، بڑائی نہیں جب تک کہ دوسرے کی کمزوری زیر نظر نہ ہو کوئی حکومت نہیں جب تک اس کے اطاعت گزار نہ ہوں۔لیکن خدا کی حکومت ایسی ہے کہ بغیر کسی اطاعت کے حکومت ہے۔اسی طرح اس کی جس قدر صفات ہیں۔وہ اپنے طور پر ہیں، لیکن باقی سب کی نسبتی طور پر ہیں۔ایک بڑے بادشاہ کے کیا معنی ہوتے ہیں ؟ یہی کہ اس کے لیے بہت سوں نے اپنی حکومت کو ترک کر دیا ہوتا ہے اور جتنا بڑا بادشاہ ہے۔اتنی ہی زیادہ اس کے لیے لوگوں کو قربانیاں اختیار کرنی پڑیں۔یا لوگوں نے اپنے علاقے چھوڑ کر اس کے قبضہ کو ان پر تسلیم کرلیا۔تویہ بڑائی نسبتی بڑاتی ہے۔تمدنی دنیا میں بھی حکومت اسی طرح ہے کہ خواہ جبر سے خواہ خوشی سے جتنے زیادہ مطیع ہوتے ہیں، اتنی ہی بڑی ان کی حکومت مانی جاتی ہے۔بہت سے لوگوں نے اپنے اختیار ایک کو دیدیئے۔اس لیے وہ بڑا بادشاہ