خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 233

دعوة الداعِ إِذَا دَعَانِ کہ اس مہینہ میں دُعا ئیں بالخصوص قبول کی جاتی ہیں۔اور دعائیں خدا تعالیٰ سے مدد کے حصول کا ذریعہ ہیں پس چونکہ دعا وہ چیز ہے جو مشکلات سے بچاتی ہے۔اور رمضان کی دُعائیں خصوصاً مقبول ہوتی ہیں۔اس لیے میں خاص طور پر اپنی جماعت کو اس طرف متوجہ کرتا ہوں رمضان میں دُعاؤں کے زیادہ قبول ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ انسان اپنے اندر بعض خدائی صفات پیدا کر لیتا ہے۔خدا کے لیے کھانا چھوڑ دیتا ہے۔پینا چھوڑ دیتا ہے۔اور خدا ہی کے لیے راتوں کو جاگتا ہے۔چونکہ دوسرے ایام کی نسبت رمضان کی راتوں میں زیادہ جاگتا ہے۔اس لیے نماز کا بھی اس میں زیادہ موقع ملتا ہے اور یہ اس مہینہ میں خصوصیت ہے۔اس لیے وہ الٹی فضل جو جماعت سے تعلق رکھتے ہیں رمضان میں نازل ہوتے ہیں۔رمضان کی مثال دربار عام سے دی جاسکتی ہے۔پہلے بادشاہوں میں قاعدہ ہوتا تھا کہ ان کے عالموں اور گورنروں کے ستائے ہوئے لوگ جب بادشاہ کے حضور فریاد کرنا چاہتے تھے تو کاغذ کے کپڑے بین کر جاتے تھے۔اس وقت بادشاہ خواہ کسی حالت میں ہوتا ان سے ملتا تھا اور کوئی وہاں اس کو نہیں روک سکتا تھا۔پھر ایک دربار عام ہوتا تھا۔جس میں ہر ایک شخص جا سکتا تھا۔تو رمضان کی مثال ، دربار عام کی ہے۔اگر چہ خدا کا دربار تو ہمیشہ ہی عام ہوتا ہے خواہ کوئی ہو اس کو ہر وقت دربار میں مل سکتا ہے۔مگر رمضان کے دن خصوصیت رکھتے ہیں۔اس لیے ان ایام میں آپ لوگ اپنے لیے۔اپنے دوستوں۔عزیزوں رشتہ داروں کے لیے اسلام و سلسلہ اور دین کی ترقی کے لیے اور فتنوں سے بچنے کے لیے خاص دعائیں کریں۔کیونکہ تمہارے لیے سوائے خدا کے اور کوئی محافظ نہیں۔احمدی ہونے سے والدین تک دشمن ہو جاتے ہیں بعض اسی قسم کے واقعات ہوتے ہیں۔کہ لوگوں کو احمدی ہونے کی وجہ سے جائیدادوں سے بھی محروم ہونا پڑا ہے اور نہ صرف والدین کی جائیداد سے بلکہ ایسی جائیدادوں سے بھی جو اپنے روپیہ سے اُنھوں نے خریدی تھیں۔اور طرح طرح کی ہمارے لیے مشکلات ہیں کہیں جھوٹے مقدمے بناتے جاتے ہیں۔کہیں دکھ دیتے جاتے ہیں۔کہیں قتل کرنے سے دریغ نہیں کیا جاتا۔چونکہ ہماری سب مشکلات دُعا کے ذریعہ ہی دُور ہوسکتی ہیں۔اس لیے ہمیں رمضان کے مہینہ میں خاص طور پر دعائیں کرنا چاہیں۔آج تم سے زیادہ کوئی اس بات کا ستحتی نہیں کہ اس کی دعا قبول کی جائے۔اور اس کی دُعا سنی جائے۔کیونکہ دُعائیں سنی جانے کی دو وجہیں ہوتی ہیں۔اول احتیاج جو دوسرے کے دل