خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 202

کیا اس پر کوئی احسان نہیں کیا یا ملاً شاگرد کے کہ استاد نے مجھ پر احسان نہیں کیا۔وہ تنخواہ لیا تھا مجھکو پڑھا تا تھا۔ہیں یہ اصول نہایت غلط ہے کہ چونکہ نیکی کرنے والے کو بھی کچھ فائدہ پہنچتا ہے تو اس طرح گویا وہ نیکی اور احسان زائل ہو جاتا ہے کیونکہ احسان کی یہ تعریف درست ہی نہیں کہ ایسا کام جس سے دوسرے کو ہی فائدہ پہنچے اور کام کرنے والے کی اس میں نہ کوئی غرض ہوا اور نہ اس سے کوئی فائدہ حاصل ہو۔ہاں کوئی شخص کسی سے کوئی ایسا سلوک کرے جس سے اس کو نقصان پہنچ سکتا ہو ، لیکن خدا تعالیٰ اس کام کو اس کے حق میں بجائے بدی اور نقصان کے مفید اور بابرکت کردے تو یہ جدا بات ہے اگر یہ نہیں تو ہر ایک کام جس سے کسی کو فائدہ پہنچے اور فائدہ پہنچانے والے کو بھی کچھ فائدہ پہنچ جائے تو یہ سب احسان میں داخل ہے۔اگر یہ نہ ہو تو تمام احسانات، خدا کے حسان والدین کے احسان اور استادوں کے احسان سب مٹ جاتے ہیں۔یہ احسان کی تعریف جو لوگ کرتے ہیں۔غلط تعریف ہے۔کسی غرض وغایت کا ہونا احسان کے منافی نہیں ہے۔اور یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ بعض باتیں جو بندوں کے ذریعہ ہمیں حاصل ہوتی ہیں۔اگر انھیں بندوں کا احسان نہ بھی مانا جائے اور یہی تسلیم کر لیا جائے کہ ان بندوں کا بھی فائدہ ہے تو بھی ان کے متعلق تسلیم کرنا پڑ گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احسان ہیں گو بندوں کے ذریعہ ہیں۔اس لیے ہمیں ان کی قدر کرنی پڑتی ہے۔اس کی مثال یہ ہے کہ اس زمانہ میں بہت سے علوم نکلے ہیں جو دنیا کے لیے بہت مفید ہیں اور ان کو استعمال کرنے سے دنیا کو بہت فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔مثلاً قسم قسم کی ایجادیں ہیں۔یہ درست ہے کہ ان ایجادوں سے تاجروں کو بھی فائدہ ہے اور ان کو کسی خاص شخص کو فائدہ پہنچانا مد نظرنہیں لیکن اس میں کلام نہیں کہ اس ایجاد سے ہمکو ایک فائدہ پہنچ رہا ہے۔تو اس کارخانہ کے ذریعہ یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر ایک احسان ہے۔اگر ہم اس کارخانہ کو توڑ دیں اور جلا دیں تو بیشک کارخانہ دارد کو نقصان پہنچے مگر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ہم نے اس کی احسان فراموشی کی اگر اس میں بھی شک نہیں کہ ہمارے اس فعل میں خدا تعالیٰ کی احسان فراموشی ہو گی جس نے اس کارخانہ کے ذریعہ ہمارے لیے آسائش کے ذرائع پیدا کر دیتے تھے۔پس بعض دفعہ خواہ اس انسان کا ہم پر احسان نہ ہو لیکن اس کے ذریعہ سے خدا کا ہم پر احسان ہوتا ہے۔اگر ہم اس کو نقصان پہنچائیں۔تو وہ خدا تعالیٰ کے احسان کا کفران ہے اور اس کی احسان فراموشی ہے۔غرض بعض لوگوں کا قاعدہ ہے کہ ایک ہی حالت سے گھبرا جاتے ہیں۔کوئی کپڑا ہو