خطبات محمود (جلد 6) — Page 175
160 دن بدن بڑھ رہی ہیں۔آپ میں سے بہت سے ایسے ہیں جو سال میں ایک ہی دفعہ آتے ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جو دو تین بار آتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو اس سے بھی زیادہ دفعہ آتے ہیں اور بعض ایسے بھی ہیں جو کئی سال کے بعد آتے ہیں۔اب آپ لوگ جو دُور دُور سے اپنے وقتوں کو خرچ کر کے اپنے مالوں کو خرچ کر کے اپنے کاموں کو چھوڑ کر آتے ہیں۔تو آپ کا فرض ہے کہ اس وقت کو صحیح طور پر خرچ کریں اور یہاں آنے کی جو غرض ہے اس کو پورا کریں۔میں اس وقت آپ لوگوں کو قرآن کریم کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔وہ بتاتا ہے کہ منافقوں کا قاعدہ ہے کر مجلس میں آتے ہیں مگر جو کچھ وہاں ہو اس پر توجہ نہیں کرتے ہیں آپ کا فرض ہے کہ جب آپ آتے ہیں تو توجہ کریں اور غور سے کام میں اور جو کچھ آپ کو منایا جاتا ہے۔اس کو سنیں جب آپ آتے ہی یہاں اس لیے ہیں تو کیوں نہ اپنے وقت کو اسی میں صرف کریں۔بعض لوگوں کا قاعدہ ہے کہ وہ مجالس میں تو بیٹھتے ہیں مگر ان کی خطیب کی طرف توجہ نہیں ہوتی وہ نہیں توجہ کرتے کہ خطیب کیا بیان کر رہا ہے بعض ایسے ہوتے ہیں کہ خطیب بیان کر رہا ہوتا ہے۔اور وہ آرام سے سوتے رہتے ہیں بعض لوگوں کو سونے کا مرض ہوتا ہے۔مگر وہ مجبور ہوتے ہیں۔ایک دوست نے سُنایا کہ میں ایک جگہ گیا۔اور وہاں تقریر قرار پاتی میں تقریر کرنے لگا تو اثناء بیان میں ہی صد رجلہ سمیت سب کے سب سو گئے۔جب میں تقریر ختم کر چکا تو کہا لو اب جاگ اُٹھو، میں نے جو کچھ کہنا تھا ئیں کہ چکا ہوں۔جب وہ بیدار ہوئے تو معذرت کرنے لگے۔خیر تو بعض لوگ مجلس وعظ میں آتے ہیں اور سو جاتے ہیں یا ان کی توجہ خطیب کے محض الفاظ یا اس کی حرکات سکنات پر ہوتی ہے اور جو کچھ وہ بیان کرتا ہے اس سے وہ کورے کے گورے ہی جاتے ہیں۔اس لیے ان کو کچھ بھی فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا۔کیونکہ اگر ایک لعرض شخص طبیب کے پاس جاتے اور وہ اس کو کوئی دوائی دے، لیکن مریض بجائے دوائی کو پینے کے سر پر انڈیل سے تو اس کو کیا فائدہ ہوگا۔کچھ بھی نہیں پس جو لوگ اس طرح اپنے وقت کو ضائع کرتے ہیں۔وہ وقت کو بھی کھوتے ہیں۔مال کو بھی تباہ کرتے ہیں۔اور جو کچھ فائدہ نہیں اُٹھاتے ان کے لیے پیشل صادق آتی ہے کیے نقصان مایہ وگر شماتت ہمسایہ کیونکہ انھوں نے کچھ فائدہ بھی نہ اُٹھایا اور مال و وقت صرف کر کے جیسے آتے تھے ویسے ہی چلے گئے۔ہر زمانہ میں ایسے لوگ ہوتے ہیں حضرت شاہ عبدالعزیز کے پاس ایک شخص آیا کہ وعظ میں تو لوگ سو جاتے ہیں اور کنچنی کے ناچ میں لوگ خوب سنتے ہیں۔اس کی کیا وجہ ہے چونکہ اس شخص نے اس