خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 118

لوگ ہی اس کو گھر سے نکال دیتے۔یا طرح طرح کے دکھ دیتے ہیں اور وہ روتی ہوئی بچہ کو لے کر بے خانماں ماری ماری پھرتی ہے اور کچھ نہیں کرسکتی مگر خدا وہ خدا ہے کہ جو انسان اس کی آغوش میں چلا جاتا ہے اس کا ساری دنیا مل کر بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔کوئی طاقت اسے نقصان نہیں پہنچا سکتی۔اور کوئی قوت اس پر غلبہ نہیں پاسکتی۔اس لیے حقیقی اور پورے امن و آرام کی آغوش ایک اور صرف ایک ہی ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی آغوش ہے۔پس آغوش مادر کو خدا کی آغوش سے کیا نسبت، لیکن افسوس اور حیرت کا مقام ہے کہ ایک نادان بچہ تو مصیبت اور خطرہ کے وقت اپنی ماں کی آغوش کو ڈھونڈھتا ہے لیکن سمجھدار اور تجربہ کار انسان دُکھوں اور مصیبتوں میں بھی خدا کی آغوش میں آنے کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔حالانکہ جیسا آرام و آسائش اس میں مل سکتا ہے اور کہیں نہیں مل سکتا کیونکہ جیا خدا تعالیٰ اپنے بندوں پر مہربان اور رسم کر نیوالا ہے۔ایسا کوئی نہیں ہے۔- چنانچہ سورۃ فاتحہ کو دیکھو اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - مَالِكِ يوم الدين ، اے انسانوں ذرا سوچو تو سی کہ تمہارا کس سے تعلق ہے۔اس اللہ سے تعلق ہے جو ساری سچی تعریفوں کا مالک ہے۔پھر وہ ظالم اور جابر نہیں بلکہ رحمن اور رحیم ہے۔وہ اپنی چھوٹی سے چھوٹی مخلوق کو بھی رزق پہنچاتا ہے۔اگر جنگل میں رہنے والے بھیڑیوں کے لیے رزق میتا کرتا ہے تو ہوا میں رہنے والی مخلوق بھی اس کی دی ہوئی روزی کھاتی ہے۔اگر زمین میں پوشیدہ رہنے والے جانوروں کو ان کی خوراک پہنچاتا ہے۔تو پانی میں رہنے والے جانوروں کو بھی وہی رزق دیتا ہے غرض ہر ایک مخلوق کے لیے اس نے سامان زیست پیدا کیا ہوا ہے۔اور اسے پہنچاتا ہے، کیا ایسا مربان خدا انسان کے لیے آرام و آسائش کا سامان نہیں کریگا۔غور کرو۔مثلاً ایک شخص کے ہاں کوئی مہمان جاتے اور میزبان اس کے نوکروں کے لیے ضروری چیزیں۔اس کی بگولوں کے لیے پیتے۔اس کے گھوڑے کے لیے گھاس۔اس کے اونٹ کے لیے کانٹے دار جھاڑیاں۔اور اس کے کتوں اور بلیتوں کے لیے گوشت غرض جتنے نوکر اور جین قدر جاندار اس کے ساتھ ہوں ان سب کے لیے آرام و آسائش کی چیزیں میت کرے اور سب کو کھانے پینے کی چیزیں دے تو کیا ایسے میزبان کی نسبت یہ خیال کیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے مہمان کے ٹھرنے کے لیے مکان کا۔اس کے کھانے کے لیے خوراک کا، اس کے آرام کے لیے بہتر کا اور اس کی دیگر ضروریات کے پورا کرنے کا انتظام نہیں کرے گا۔ہرگز نہیں کیونکہ جب وہ اپنے مہمان کی خاطر اس کے ساتھ کی ہر ایک چیز کو آرام پہنچا رہا ہے تو خود اس کو کیوں نہ پہنچائے گا۔پس ایسے میزبان کی نسبت بجز پاگل کے کوئی شخص خیال نہیں کرتا کہ وہ اپنے مہمان کو بھوکا رکھے گا۔یا اس کے آرام کے