خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 95

۹۵ ہو کر کہنے لگا کہ بات اصل میں یہ ہے کہ میں کفارہ کا اس لیے قاتل ہوں کہ عیسائیوں کے گھر میں پیدا ہوا ہوں دونر میں اس کو سمجھ نہیں سکتا۔اور نہ اس کی صداقت کے دلائل رکھتا ہوں۔دیکھو تثلیث پر بحث کرتے وقت تو اس نے کہا تھا کہ کفارہ پر گفت گو کیجئے۔ہمیں اس کے متعلق نہایت زیر دست دلائل رکھتا ہوں، لیکن جب اس پر گفتگو ہوئی تو کہدیا کہ میں اس لیے اس کا قائل ہوں کہ عیسائیوں کے گھر میں پیدا ہوا ہوں۔اسی طرح ایک اور عیسائی سے گفتگو ہوئی۔وہ عیسائیوں کے کالج کا پرنسپل تھا۔وہ جب لا جواب ہوگیا۔تو کہنے لگا اصل بات یہ ہے کہ سوال تو بیوقوف بھی کر سکتا ہے۔جواب دینے والا عقلمند ہونا چاہیے میں نے کہا ئیں تو آپ کو عقلمند سمجھ کے ہی آیا تھا۔اچھا اگر آپ جواب نہیں دے سکتے تو نہ سہی۔تو بہت لوگ ہیں جو کسی صداقت کا اپنے پاس کوئی ثبوت نہیں رکھتے۔آجکل جو لوگ عیسائی ہو جاتے ہیں اس کی یہ وجہ نہیں کہ عیسائی مذہب کی صداقت کے قائل ہوتے ہیں۔یا عیسائیت کی صداقت کے انکے پاس زیر دست دلائل ہوتے ہیں۔بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ خیال کرتے ہیں کہ اگر عیسائی ہوگئے۔تو نوکریوں میں آسانیاں ہونگی۔تعلیم میں سہولتیں پیدا ہو جائیں گی۔یاکسی قسم کے اور فوائد حاصل ہونگے بہت ہی قلیل لوگ ہوتے ہیں جو دلائل کی طرف توجہ کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ باطل مذہب دنیا میں قائم ہیں۔اندھیر میں کوئی شخص اپنی کروہ اور گھناؤنی چیز کو بھی خوبصورت کہ سکتا ہے، لیکن روشنی میں جو چیز خوبصورت ثابت ہو وہی خوبصورت ہوتی ہے۔قرآن شریف نے اس بات پر بہت زور دیا ہے کہ جو بات مانو دلیل سے مانو۔اور مومن وہی ہے جو دلائل اپنے پاس رکھتا ہے۔یہ سچی بات ہے کہ ہر شخص ہر بات کے دلائل اور براہین کا ماہر نہیں ہوسکتا لیکن ان مسائل کا یا دل تل سمجھنا ہر ایک کے لیے ضروری ہے۔جن کا تعلق عقائد سے ہے مثلاً ہستی باری تعالیٰ وجود ملائکہ قضا و قدر ثبوت قیامت۔نبیوں کی صداقت ان سب مسائل کے دلائل معلوم ہونے چاہئیں۔اگر سب دلائل معلوم نہ ہوں تو نہ ہوں۔اور یہ کوئی ضروری بھی نہیں۔کہ سارہ سے ہی دلائل معلوم ہوں۔اگر تفصیلات معلوم نہیں تو اجمالی طور پر ہی سہی لیکن ایک حد تک معلوم ہونا ضروری ہے۔یوں تو بہت سے ایسے دلائل ہیں جو آج ہمیں معلوم میں ، لیکن تیرہویں صدی والوں کو معلوم نہ تھے اور بہت ہیں جو تیرھویں صدی والوں کو معلوم تھے اور بارہویں صدی والوں کو معلوم نہ تھے۔یا مثلاً بہت سی پیشگو تیاں تھیں جو آج پوری ہوگئیں صحابہ کے وقت ان کا پتہ بھی نہ تھا۔توان پیشگوئیوں کے معلوم ہونے سے یہ نہیں تھا کہ صحابہ کے ایمانوں میں خدا نخواستہ کوئی کمزوری تھی۔نہیں۔بلکہ ان کے ایمان بہت مضبوط تھے۔بات یہ ہے کہ سارے دلائل جو کسی بات کی صداقت کے ہوتے ہیں وہ معلوم ہونے