خطبات محمود (جلد 6) — Page 88
AA کر کے کہ کچھوا آہستہ آہستہ چلتا ہے اس لیے یہاں آنے تک میں آرام کرلوں یہ جھ کر وہ سوگیا۔اور کچھوا اپنی اسی آہستہ چال سے چلتا چلتا ٹیلے پر پہنچ گیا۔یہاں جا کر خرگوش کو اس نے آواز دی کہ لوبھتی ہیں تو پہنچ گیا ہوں۔غرض استقامت سے کام کرنے والا ضرور جیت جاتا ہے۔دیکھو مسلمان بڑے جوش سے اُٹھے۔ان کے پاس صداقت کی تلوار تھی۔اور بر این نیزہ کا مضبوط نیزہ ، لیکن چونکہ انھوں نے استقامت کو چھوڑ دیا اور اس جوش و خروش کو قائم نہ رکھا جو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ پیدا ہوا تھا۔اس لیے جلد ہی بیٹھ گئے۔اس کے مقابلہ میں چونکہ عیسائیت کی گند چھڑی جو آہستہ آہستہ چلتی رہی اور اس کے چلانے والوں نے استقلال دکھلایا۔اس لیے آج وہ بہت کام کر چکی ہے مسلمانوں کے پاس صداقت کے بہتھیار تو نہایت اعلیٰ درجہ کے تھے مگران میں استقامت کی کی تھی اور عیسائیوں کے ہتھیار گند اور ناکارہ تھے مگر ان میں استقامت تھی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انکی سند تھری کے ذریعہ لاکھوں مسلمانوں کے گلے کٹ چکے ہیں اور وہ زخمی ہو کر تڑپ رہے ہیں۔تو چونکہ عیسائی آہستہ آہستہ اپنی کند چھری کو استقلال کے ساتھ چلا رہے ہیں اس لیے وہ ان سے جن کے پاس تیغ آبدار توتھی مگر وہ اسے چھوڑ کے بیٹھ گئے۔بازی لے گئے۔یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ استقلال کے ذریعہ ایک شکست چیست سے ایک کمزور مضبوط سے جیت جاتا ہے۔پھر استقلال تو وہ چیز ہے کہ اس سے کام لے کر لوگ حیوانوں کو وہ کچھ سکھالیتے ہیں جو ان کی فطرت کے مطابق نہیں ہوتا۔مثلاً طوطے کو باتیں کرنا سکھا لیتے ہیں۔اس طرح اور کئی جانوروں کو عجیب عجیب کام سکھلاتے جاتے ہیں۔پس استقلال کی برکت سے جب جانوروں کی یہ حالت ہو جاتی ہے۔تو کیا وجہ ہے کہ اگر انسانوں کو الہ الا الله بالاستقلال سنایا جاتا تو وہ اس کے قاتل نہ ہو جاتے ہیں یقین کرتا ہوں کہ اگر مسلمان استقامت سے کام لیتے تو یقیناً آج دنیا میں کوئی غیر مسلم نہ ہوتا اور ساری دنیا ربنا اللہ کہنے والی ہوتی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان جب اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں استقامت دکھاتا ہے۔تو وہ ملم ہو جاتا ہے پھر اس کے لیے خدا کے فضل سے دنیا و آخرت میں کوئی خوف نہیں رہتا۔اللہ کے ملائکہ اس کے دوست اور ولی ہو جاتے ہیں جو انسان ایسا ہو جاتے۔اس کی تمام خواہشات پوری کی جاتی ہیں اور وہ اس طرح کہ خدا تعالیٰ ایسے انسانوں کے متعلق فرماتا ہے۔نزلا من غفور رحیم۔ان کو تو کچھ دیا جائیگا وہ غفور رحیم خدا کی طرف سے بطور مہمانی کے ہو گا۔پس اس آیت میں خدا تعالیٰ نے استقامت کے فوائد بتلائے ہیں۔اور اسے اختیار کرنا ہر ایک مسلمان کا فرض قرار دیا ہے۔