خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 84

ان لوگوں کے لیے نہایت خوف کا مقام ہے۔جو اسلام کی اشاعت کے لیے کوشش نہیں کرتے۔یہ ایک عجیب بات ہے کہ ہندوستان کے جس قدر امراء ہمارے سلسلہ میں شامل ہیں۔وہ سب دین کے لیے خاص جوش اور قربانی کرتے ہیں، لیکن پنجاب کے امراء میں کستی پائی جاتی ہے۔گو پنجاب کے غریب ہے دین میں بہت بڑھے ہوتے ہیں۔مگر امراء بہت پیچھے ہیں، لیکن ہندوستان کے امرامہ کی حالت پنجاب کے امراء سے دین کے معاملہ میں بالکل مختلف ہے وہ جس طرح مال کے لحاظ سے درجہ کے لحاظ سے پنجاب کے لوگوں سے بڑھے ہوتے ہیں۔اسی طرح دین کے لیے جوش و اخلاص۔تواضع و انکسار میں بہت بڑے ہوتے ہیں۔اہل پنجاب کے ایسے لوگوں کو بہت جلد اس نقص کو دور کرنا چاہیئے۔ورنہ اگر وہ دین کے معاملات میں چشتی اور جوش و اخلاص اور ایثار و قربانی سے کام نہیں لینگے تو یاد رکھیں کہ وہ خدا جو دے سکتا ہے۔وہ لے بھی سکتا ہے۔خدا نے یہ مال وغیرہ ان کو اس لیے دیا تھا کہ ان کی آزمائش کی جائے اور کھوٹے کو کھرے سے اور جھوٹے کو نیچے سے الگ کر کے رکھ دیا جائے۔اور یہ نمونہ کے طور پر اس نے انہیں عطا کیا تھا۔پس اگر وہ اسی پر غافل ہو گئے۔تو واقعی یہ مال ان کے لیے آفت ہو جائیگا جس کی انکو خبر نہیں۔ہم میں جو معززہ ہیں۔جو عالم ہیں جو مالدار ہیں یا جو ذی وجاہت و ذی مرتبہ ہیں۔ان سب کا فرض ہے کہ وہ ہستی اور کاہلی کو چھوڑ دیں۔بڑائی و نخوت سے بالکل پاک ہو جائیں اور نیکی میں ترقی کریں۔دین کے لیے قربانی کریں اور دین کے کاموں کو ہتک نہ خیال کریں۔بلکہ بڑھ چڑھ کر حصہ ہیں جب وہ ایسا کریں گے تو خدا کے فضل ان کے ساتھ ہونگے۔ورنہ خدا کی گرفت سخت ہے اور حضرت صاحب کی بددعا ہے کہ خدایا جو لوگ دین سے بے فکر ہیں انکو خوشی نصیب نہ ہو جس طرح غربامہ دین کی خدمت میں مصروف ہیں۔اور اعمال شرعی کو بجالانے میں سُست نہیں اسی طرح انہیں بھی دین کی خدمت کرنا چاہتے بلکہ ان سے بڑھکر کیونکہ ان پر خدا کے زیادہ فضل ہیں لیکن اگر وہ نہیں کریں گے تو یاد رکھیں کہ وہ خدا ونعمت دے سکتا ہے۔وہ واپس بھی لے سکتا ہے۔خدا تعالیٰ آپ لوگوں کو دین کی خدمت کرنے کی توفیق بخشے اور مستیوں کو دور کر کے اپنے راستہ میں وقت اور مال خرچ کرنے کا موقعہ نصیب کرے تا آئندہ اس کے فضل آپ لوگوں سے رُک نہ جائیں بلکہ ور زیادہ الفضل ، ستمبر اوله ) بڑھتے رہیں۔" (