خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 82

کا موجب ہوں۔مگر عجیب بات ہے کہ لوگ اس نمونہ کی چیز پر ہی استقدر غافل ہو جاتے ہیں کہ اصل انعام کو بھلا بیٹھتے ہیں۔حالانکہ ان کو سوچنا چاہتے کہ میں خدا کی رحمانیت یہ کچھ کرسکتی ہے۔اس کی رحیمیت کیا کچھ نہ کرے گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحاب میں جو امراہ تھے وہ دین میں شکست نہیں تھے۔ایک دفعہ غریب اصحاب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ حضور ہمارے امیر بھائی تو صدقات و خیرات کے ذریعہ بہت سی نیکیاں بجالاتے ہیں۔جن سے بوجہ غریبی ہم محروم ہیں۔اس کے لیے ہمیں کوئی ایسا کام بتا دیجئے کہ جس کے ذریعہ اس کمی کی تلافی ہو سکے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ۳۳ دقعہ سبحان الله ۱۳۳ دفعہ الحمد لشد ۳۲ دفعہ اللہ کر ہر نماز کے بعد پڑھا کرو جب غربا۔نے اس پڑھل کر نا شروع کر دیا تو امراء نے بھی یہ تسبیحیں پڑھنی شروع کر دیں۔اس پر غربا ہ آنحضرت کے پاس پھر حاضر ہوتے اور کہا کہ حضور امراء نے بھی یہ عمل شروع کر دیا ہے۔فرمایا۔آپ میں کیا کروں۔جنگو اللہ نے فضیلت دی ہے میں ان سے کیسے چھین سکتا ہوں ہے یہ حالت سوائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے اور کسی نبی کی اُمت میں نظر نہیں آتی۔حضرت مولی کا مقابلہ کرنے والے ان کی قوم کے سردار ہی تھے اور حضر میشیح تو دولتمندوں سے استقدر ستائے گئے معلوم ہوتے ہیں کہ کہتے ہیں۔دولت مند خدا کی بادشات میں داخل نہیں ہو سکتا یہ ایک دفعہ ایک مالدار آپ کے پاس آیا اور عرض کیا مجھکو بھی تعلیم دیجیتے آپ نے فرمایا جاپہلے اپنا سب مال تقسیم کر دے اور پھر میرے پاس آبیٹے غرض مال تو لوگوں کو نمونہ کے طور پر بغرض آزمائش کے دیا جاتا ہے جس سے نیکی کی طرف ترغیب و تحریص ولا ناید نظر ہوتا ہے مگر لوگ اسی کو اصل چیز سمجھ کر اس پر ایسے لٹو ہو جاتے ہیں کہ دین کے معاملہ میں بہت سستی سے کام لیتے ہیں۔رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم کے صحابہ میں جو اطاعت و فرمانبرداری تھی اسکی نظیر معنی شکل ہے۔انکے امراء بھی غرباء کی طرح دین کے لیے جان شاہ اور خادم تھے۔حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت بڑے مالدار تھے۔ان کے پاس کئی کروڑ درہم موجود تھا۔آنحضرت کے ایک دوسرے صحابی حضرت ابو ذر غفاری تھے جن کا عقیدہ تھا کہ انسان کے پاس روز کے خرچ سے زیادہ نہیں ہونا چاہتے اگر ہو تو اس کو اسی روز خروج کر ڈالنا چاہیئے۔انہوں نے حضرت عبد الرحمن بن عوف پر اعتراض کیا کہ تم نے اتنا مال کیوں جمع کر رکھا ہے۔انہوں نے له بخاری کتاب الصلوة باب الذكر بعد الصلوة : لے، سے لوقا