خطبات محمود (جلد 6) — Page 81
2۔0 A عیسائی بھی کرتے ہیں، بلکہ اپنی کتابوں میں لکھے ہیں کہ موحد تو یہ ہی ہیں اور مسلمان مشرک ہیں لیکن کیا در حقیقت وہ خدا کو ایک مانتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔تو ہمارا مقصد اس قسم کا ماننا نہیں بلکہ حقیقی طور پر خدا کو پالیا ہے۔پس ہمارا فرض ہے کہ ان تمام روگوں کو دور کرنے کی کوشش کریں جو اس مقصد کے حصول میں حائل۔ہوں جگر میں دیکھتا ہوں ک کسی شخص کو کچھ مال مل جاتا ہے۔تو وہ دین کی طرف سے بے پرواہ ہو جاتا ہے۔اگر اولاد ہو جاتی ہے تو دین کی طرف سے سستی ہونے لگتی ہے، بعض لوگوں کو رسم ورواج اور اور عادات۔عزت و آبرو وغیرہ کا خیال اس مقصد کے حصول میں روک بن جاتا ہے۔حالانکہ معمولی مقصد تو معمولی کوشش اور سبھی سے حاصل ہو جایا کرتا ہے مگر بڑا مقصد تھوڑی کوشش سے حاصل نہیں ہوتا۔اگر دس سیڑھیوں کی اونچائی ہو تو دس قدم میں چڑھ جائیگا، لیکن قطب صاحب کے مینار پر دس قدم میں نہیں چڑھا جائے گا۔اس کے لیے جتنا وہ بلند ہے اتنی ہی زیادہ کوشش کی ضرورت ہے خدا اور اس کے دین کے لیے ہرقسم کی قربانی نہ کرنا اس کی توحید پر ایمان لانا نہیں ہوتا۔اللہ تعالے فرماتا ہے۔وَاعْلَمُوا أَنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمُ فِتْنَةٌ وَأَنَّ اللَّهَ عِندَهُ أَجْرُ عظیم - خوب اچھی طرح جان لو کہ تمہارے مال و اولا د کھوٹے کھرے کے پرکھنے کا ذریعہ ہیں۔بعض لوگوں نے اس کے یعنی کہتے ہیں کہ اولاد اور مال مصیبت ہیں۔لیکن یہ غلط ہیں۔فتنہ کے معنے کھوٹے اور کھرے میں امتیاز کرنے کا ذریعہ کے ہیں۔اور وہ اس طرح کہ جب کسی کے پاس مال ہو گا بھی معلوم ہو سکے گا کہ یہ خدا کی راہ میں مالی قربانی کرتا ہے یا نہیں۔اسی طرح جب کسی کے ہاں اولا د ہو گی جب ہی معلوم ہوگا کہ اولاد کو خدا کی راہ میں قربان کرتا ہے یا نہیں، لیکن جس کے پاس مال ہے نہ اولاد اس کے متعلق کیسے معلوم ہو سکتا ہے کہ وہ ان چیزوں کو خُدا کی راہ میں دے سکتا ہے۔اور اس کا کھوٹا کھرا کیوں کہ پرکھا جاسکتا ہے۔ہیں جب ایک مالدار خدا کی راہ میں مال قربان کر گیا تو یہ اس کے لیے ذریعہ تمیز ہو جائیگا اس کے کھرے اور کھوٹے ہونے کا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔مال اور اولاد دینے کا نتیجہ کیا ہو گا۔یہ کہ ان الله عِنْدَ اجر عظيم - مال و اولاد خدا کے امتحا نا تمہیں بطور نمونہ کے ہوگا دیتے ہیں۔اس سے قیاس کرلو کہ جب تم خدا کی راہ میں قربانیاں کروگے تو خدا جونمونہ میں ایسی ایسی نعمتیں دے سکتا ہے اور دیتا ہے۔وہ اجر میں کیا کچھ نہیں دیگا۔تو فرمایا۔اللہ کے پاس اجر عظیم ہے اب غور کرو کہ وہ خدا جو بغیر کسی عمل کے محض اپنے فضل سے استقدر مال و دولت دیتا ہے جب کوئی اس کے احکام مانے گا۔کتنا بڑا اجر دیگا۔تو مال و اولا د خدا نے نمونہ کے طور پر دیتے ہیں۔اور اس لیے دیتے ہیں کہ ہم نیکی میں قدم بڑھائیں۔اور یہ ہمارے لیے نیکی میں بڑھنے کے لیے ترغیب و تحریص