خطبات محمود (جلد 6) — Page 68
13 عبودیت ہی تمام کامیابیوں کی کلید ہے فرموده ۲۸ جون شاشه بهنام داموزی ) حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ پڑھ کر فرمایا۔نسورۃ فاتحہ میں جہاں اور عظیم الشان بلکہ غیر محدو د نصارح اور مواعظ بیان کئے گئے ہیں۔وہاں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اور پھر ان کے ذریعہ ساری دنیا کواس بات کی طرف توجہ کیا ہے کہ کوئی چیز مفید یا بابرکت یا کوئی خوشی اور راحت کوئی ترقی یا کمال کوئی درجہ یا رتبہ ایسی حاصل نہیں ہو سکتا جو خدا تعالیٰ کے قوانین کے خلاف چل کر حاصل ہو۔بلکہ تمام کامیابیوں کا ذریعہ عبودیت ہے۔جب کبھی وہ خدائی کا دعوی کریگا۔خواہ منہ سے کرے جیسا کہ بعض بیوقوف کرتے ہیں۔یا اپنے اعمال سے ایسا ظاہر کرے وہ یقیناً ناکام و نامراد رہے گا نبی کا دعویٰ کرنے والے کے لیے تو فرمایا۔دلو تقول علينا بعض الأقاويل لاخذنا منه باليمين ثم لقطعنا منه الوتين فما منكم من احد عنه حاجزين - رالحاقہ ۳۵ تا ۴۰ ) ہم اس کی رگ جان پکڑ کر کاسٹ دیتے۔مگر خدائی دعوی کرنے والے کے لیے ایسا نہیں کہا۔اس لیے کہ وہ تو فوراً پتہ لگ جاتا ہے۔ہاتھ کنگن کو آرسی کیا " مشہور ہے کہ ایک شخص نے خُدائی کا دعویٰ کیا۔ایک زمیندار چاہتا تھا کہ اس کو اس دعوی سے ہٹاوں۔مولوی اس سے مباحثہ کرتے تو وہ بھی حجتیں کرتا۔اور دلائل دیتا۔آخر زمیندار ایک دن اسے اکیلا پاکر گیا اور پوچھا کہ تم نے خدائی کا دعویٰ کیا ہے ؟ اس نے کہا ہاں۔زمیندار نے گردن پکڑ کر نیچے گرا لیا۔اور کہا میں تو تم کو عرصہ سے تلاش کرتا تھا۔تم ہی نے میرے باپ کو مارا ہے اور یہ کہ کر ایک متکا زور سے اس کے مارا اور پھر کہا کہ تم نے ہی میری ماں کو مارا ہے۔اور پھر ایک متنا مارا۔پھر اپنے ایک ایک رشتہ دار کا نام لیتا جاتا۔اور سکتے مارتا جاتا۔آخر اس نے ہاتھ جوڑے اور کہا کہ میں اس دعواے سے بازہ آیا۔سے