خطبات محمود (جلد 6) — Page 574
۵۷۴ پس ہمیشہ اپنے معاملات پر غور کرو کہ آیا وہ غلط تو نہیں یا ان کے ذرائع تو غلط نہیں۔اگر کوئی خیال اپنی ذات میں موجب فساد ہے تو اس کو چھوڑ دو۔اور اگر خیال صحیح ہے مگر ذرائع ٹھیک نہیں تو انکو درست کردو۔اگر کسی کا قصور ہے تو اس کو بتاؤ۔یہ نہیں کہ قصور زید کا ہو۔اور نگر کو جس کا کوئی تعلق نہیں بتایا جائے۔اگر کسی محکمہ میں ہو اور اس میں تمہارے نزدیک کوئی خرابی ہے۔تو جائز ذریعہ سے اس کو دور کرنے کی کوشش کرد اور ان لوگوں کو توجہ دلاؤ - جو اس کو دور کر سکتے ہیں۔اگر وہ توجہ کریں تو فبہا۔ورنہ اگر تم کو اس صیغہ کے حکام بالا سے کہنے کا اختیار ہے۔تو تحریراً کہو اور اگر کہنے کا حق نہیں۔تو خاموش رہو۔اور اس معاملہ کو خدا پر چھوڑ دو۔اگر وہ لوگ غلطی کی دانستہ اصلاح نہیں کرتے۔تو خدا ان کو خود درست کر دیگا۔مگر تم اپنے افعال سے فساد کا باعث نہ بنوی کیونکہ جب ایسی حالت ہو کہ تمہاری کوئی نہ کئے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَادْعُوهُ خَوفاً وَ طمعا اس وقت اللہ کے حضور گر پڑو۔اور خوف اور طبع سے اس سے دعا کرو۔اگر تم محسن ہوتو تمہا کا اور خیال ضائع نہ ہوگا کیونکہ اِن رَحْمَةَ اللهِ قَرِيبٌ مِنَ الْمُحْسِنِينَ اللہ کی رحمت محسنوں کے قریب تر ہے۔پس قانون کی پوری پابندی کرو، اور امن کے ساتھ اصلاح کرد۔اگر تہیں حتی ہے۔پھر تم کامیاب ہو جاؤ گے ورنہ جوشخص اس سلسلہ کو اپنے کسی رویہ سے فقہ میں ڈالنا چاہے گا وہ کامیاب نہ ہوگا۔تم جب اصلاح کرنا چاہو۔تو پہلے نفس کی اصلاح کرو بعد میں دوسروں کی اصلاح کی طرف توجہ کرو۔للہ تعالی تمہیں توفیق دے کہ اپنے ذمہ کے کاموں کو سمجھو اور ان کی اہمیت کو معلوم کرو سب سے بڑا کام اتفاق ہے۔اس کو نہ توڑو اور اصلاح محبت سے کرو کیونکہ حقیقی اصلاح محبت سے ہی ہوتی ہے۔اگر ہم میں فتنہ ہو تو پھر دنیا کی اصلاح کی اُمید نہیں۔دوسرے خطبہ کیلئے جب کھڑے ہوتے توفرمایا معلوم ہوا ہے کہ وگ جمع کیلئے کچھ دیر سے آتے ہیں آج جب میں آیا تو چند آدمی تھے حالانکہ میرے خیال میں آج مجھکو دیر ہوگئی تھی۔دو تین جمعوں سے میں ایسا ہی دیکھتا ہوں ، حالانکہ جمعہ ظہر کے وقت ہو چکنا چاہیئے پہلی اذان اس لیے ہوتی ہے کہ لوگ جمع ہو جائیں پھر اس دن خطبہ بھی ہونا ہوتا ہے۔اس میں بھی کچھ دیر لگتی ہے۔آیندہ پا ۱۲ بجھے دوستوں کو بیاں پہنچ جانا چاہیئے۔اور اس ( الفضل ۱۶ دسمبر ته ) میں احتیاط لازم ہے۔