خطبات محمود (جلد 6) — Page 566
۵۶۶ " کرتے ہیں۔اس سے کہیں زیادہ اور کہیں اچھا کام اس وقت کر سکیں گے۔دیکھو کانگرس وغیرہ والے کسی طرح کام کرتے ہیں۔ان کی محض تربیت ہوتی ہے۔ان میں وہ اخلاص نہیں ہو تا۔بلکہ اس کا ہزارواں حصہ بھی نہیں ہو تار جو تم میں ہے کہ میں جب اول بار میں ڈلہوزی گیا۔اس وقت مجھ کو یہ خیال آیا تھا کہ ہمارے لوگوں کی تربیت نہیں۔اسی وقت سے میں بار بار خطبات میں۔درسوں میں تقریروں میں کہ رہا ہوں مگر افسوس ہے کہ اس پر توجہ نہیں کی گئی۔پس جسمانی کاموں میں جسمانی تربیت کی ضرورت ہے۔دیکھو عیسائی مبلغ جن ممالک میں جاتے ہیں۔چونکہ وہ تربیت یافتہ ہوتے ہیں اس لیے شور میچ جاتا ہے۔مگر ہمارے مبلغ بعض دفعہ ہر سوں رہتے ہیں۔اور لوگوں کو علم تک نہیں ہوتا۔اس نکتہ کو سمجھو اور تربیت کی طرف توجہ کرو۔اگر چاہتے ہو کہ کامیاب ہو۔ورنہ محض ایمان سے وہ کام جو درکار ہے نہیں خُدا نے جو سامان دیتے ہیں ان کو استعمال میں لاؤ۔ان کو استعمال میں نہ لانا اور فتح چاہنا خدا کا امتحان لینا ہے۔اگر شق نہیں کرو گے تو ہزاروں سال میں بھی مقصد حاصل نہیں کر سکو گے۔تربیت ہوا اور پھر کام کرنے والوں پر ایک نگران ہو جس کو سوائے نگرانی کے اور کوئی کام نہ ہو۔پھر کام ہو گا۔یورپ کھای کاروبار- ایک جرمن فلاسفر کے قول پر چل رہا ہے۔اس سے پوچھا گیا کس طرح اچھا انتظام ہوسکتا ہے اس نے کہا کہ کچھ لوگ بالکل فارغ ہوں۔جو یہ دیکھ سکیں کہ دوسر سے فارغ نہیں۔وہ صرف دماغ کی طرح ہونے چاہئیں۔ان کا کام صرف سوچنا ہو۔وہ دماغ ہوں اور دوسرے اعضاء و جوارح۔یہی عمدگی کے ساتھ کام کرنے کا طریق ہے۔فرض کرد - اگر مجھے بیت المال کا کام سپرد ہو اور میں روز روپیہ کا حساب کرنے بیٹھوں تو جماعت کی بہتری کے لیے اور جو بہت سے کام ہیں۔اس وقت نیس نگران ہوں جن کا کام محض نگرانی ہو۔میں نے ابھی سے نصیحت اس لیے کی ہے تاکہ تم اس فرض کے ادا کرنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔جلسہ پر صرف احمدی ہی نہیں غیر احمدی بھی آتے ہیں۔اس وقت جو احمدی آتے ہیں۔اگر چہ ان کو جو تکلیف ہو۔وہ برداشت تو کرتے ہیں۔مگر اچھا اثر نہیں لیتے لیکن جو غیر احمدی آتے ہیں۔ان کو اگر تکلیف پہنچے تو وہ جتنے قریب ہوتے ہیں۔اتنے ہی دور ہو جاتے ہیں۔میں نصیحت کرتا ہوں کہ جو فارغ ہوں۔وہ حتی الوسع اپنے آپ کو افسروں کے پیش کریں پھر شق کریں۔اور تربیت حاصل کریں تا کہ کام کو خوبی کے ساتھ سرانجام دے سکیں۔اگر چہ یہ وقتی نصائح ہیں۔مگر یہ ہمیشہ کے لیے یاد رکھو کہ جب تک تربیت نہ ہو کوئی کام خوبصورتی سے نہیں