خطبات محمود (جلد 6) — Page 543
۵۴۳ میں پائی جاتی ہیں۔بلکہ حیوانوں تک میں پائی جاتی ہیں۔اور جو اس سے بھی بڑھکر ہیں۔وہ نباتات میں بھی پائی جاتی ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو جذبہ یا تقاضہ فطرتی ہو۔وہ زیادہ وسیع الاثر ہوتا ہے۔اور اسی قدر عام ہوتا ہے۔ان جذبات میں دو جذبے ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ ہر انسان میں سواتے کسی خاص مریض کے سب میں پائے جاتے ہیں اور وہ یہ کہ انسان کی فطرت میں ہے کہ وہ حسن کو ظاہر کرتا اور برائی کو چھپاتا ہے۔خواہ کوئی انسان تہذیب میں اعلی ہو یا ابتدائی درجہ میں ہو۔خواہ وہ لوگ آسمانی وحی کے پیرو ہوں۔خوا فقل پر ہی سب مدار رکھنے والے ہوں۔ان میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ اچھائی کو ظاہر کرتے ہیں۔اور برائی کو چھپاتے ہیں۔ہر ایک مذہب یہی سکھاتا ہے اور ہر مذہب کے پیرووں کی نہی حالت ہے۔کوئی مذہب نہیں حتی کہ سچا تو سچا۔کوئی جھوٹا مذہب بھی ایسا نہیں۔جو بدی کو ظاہر کرتا اور اچھائی کو چھپا تا ہو۔جو نہ ہی ایسا کرتا ہے وہ ہلاک ہو جاتا ہے اور قائم نہیں رہ سکتا۔اس جذبہ کے ماتحت عیسائی مذہب کے رومن کیتھولک فرقہ نے کن نمیشن کا طریق رکھا ہے، لیکن اس میں بھی یہ بات ہے کہ ہر ایک شخص کے سامنے گناہ کے اقرار نہیں کئے جاتے۔نہ وہ لوگ اخباروں میں اپنے جرموں کی تشہیر کرتے ہیں۔بلکہ ہفتہ کے بعد پادری کو جا کر بتانا ہوتا ہے کہ ہم نے یہ یہ گناہ کئے مگر یہاں بھی لوگ اپنے تمام گناہ نہیں بتاتے ہیں نے ایک انگریز رومن کیتھلک سے پوچھا۔اس نے کہا کہ ہم اپری کو وہی گناہ بتاتے ہیں جن کے متعلق ہمیں یقین ہوتا ہے کہ پادری صاحب معاف کر دینگے لیکن جن کے متعلق یقین ہو کہ وہ گناہ معاف نہیں ہونگے وہ ہم پادری صاحب کو نہیں بتاتے۔اس کے صاف یہ معنے ہیں کہ پادری کو وہ گناہ بتاتے جاتے ہیں جن کو پادری گناہ نہیں سمجھتا اور جن کو وہ گنا سمجھتا ہے وہ اس کو نہیں بتائے جاتے۔یہاں بھی اسی فطرتی جذبہ نے کام کیا۔اس مذہب کا نتیجہ یہ ہے کہ جتنے جرائم کیتھولک ممالک میں ہوتے ہیں۔دوسرے میں نہیں کیونکہ شخص مذہب کے ایک اس حکم کو توڑتا ہے کہ کسی کو نقصان نہ پہنچاؤ وہ یہ حکم کہاں مان سکتا ہے کہ پادری کو حرم بتاؤ پس اس مذہب نے فطرت کا خفیف سا مقابلہ کیا۔اور اس میں بھی ناکام رہا۔پس یہ فطرتی جذباتہ ہیں کہ اچھائی کو ظاہر کیا جاتا ہے اور برائی کو چھپایا جاتا ہے، لیکن ان جذبات اور تقاضوں کی بھی حدود ہوتی ہیں۔اور ان حدود کے اندر کام کیا جاتا ہے۔فطرتی تقاضا یا جذبہ ہونے کے یہ معنے نہیں کہ حدود کو چھوڑ دیا جائے۔مثلا کھانا پینا فطرتی تقامنے ہیں۔اب اگر کوئی شخص مدرسے زیادہ کھاتے گا تو بیمار ہو گا۔اسی طرح غصہ و محبت فطرتی جذبے ہیں، لیکن اس کے یہ معنے نہیں کہ انسان