خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 504 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 504

۵۰۴ سمجھتے ہیں نے تاکید کی ہے اور قرآن میں بھی آیا ہے۔فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوتًا فَسَلَمُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ تَحيَّةٌ من عِندِ اللهِ مُبرَكَةً طَيِّبَةً (النور (۶۲) کہ جب گھروں میں داخل ہو۔تو سلام کرو۔اس میں خوبی یہ ہے کہ یہ نہیں فرمایا : فسلموا على اخوانكم - بلکہ یہ فرمایا علی انفسکم کہ اس کا فائدہ تمہارے اپنے ہی نفسوں پر ہوگا۔یہ ایک ایسا حکم ہے کہ رسول کریم کے ارشاد کے ماتحت ہر سلمان کو دوسرے مسلمان سے ملتے وقت بجالانا چاہیئے۔چونکہ اس کا موقع ہر وقت ملتا رہتا ہے۔اس لیے عام طور پر لوگ اسے معمولی حالانکہ یہ ایسا ضروری ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔یہ جنت میں جانے کا ذریعہ ہے اور فرمایا ہے۔مسلمانوں کے اتفاق و اتحاد کی بنیاد اسی پر قائم ہے چنانچہ فرمایا۔اس میں سلام کرو سلام سے محبت پیدا ہوتی ہے اور محبت کے ذریعہ ہی جنت میں داخل ہونا ہے۔مگر افسوس اب بہت سے ایسے لوگ مسلمانوں میں موجود ہیں جو سلام کو ترک کر بیٹھے ہیں۔اور ایسے لوگ غیر احمدیوں میں ہی نہیں کسی قدر قلیل تعدا د احمدیوں میں بھی ہے۔ایسے لوگ بجائے سلام کے ایک دوسرے کو آداب غیرہ الفاظ سے مخاطب کرتے ہیں۔اور جو السلام علیکم کہے۔اسے کہتے ہیں۔پتھر مار دیا۔حالانکہ وہ خود اسلام کے ایک حکم اور رسول کریم کے ارشاد کا انکار کر کے اپنے اوپر تھر گراتے ہیں۔اور جو مرہم ہے اسے پتھر سمجھتے ہیں۔اسلام علیکم کے معنے ہیں کہ زخم بھر جائیں۔مگر نادان کہتے ہیں۔یہ پتھر مار دیا۔اور اس شخص سے زیادہ احمق اور کون ہو سکتا ہے۔جو مرہم کا نام پتھر رکھے۔تو مسلمانوں کا ایک حصہ تو ایسا ہے جو سلام کہنے کا بالکل تارک ہے۔اور دوسرا ایسا ہے جو تارک تو نہیں، لیکن اس کی حقیقت ہے ناواقف ہے۔ایسے لوگ مجلس میں آئیں گے۔اور چپ کر کے بیٹھ جائیں گے۔گھروں میں داخل ہونگے اور خاموش ہو کر بیٹھ رہیں گے اور انہیں خیال بھی نہ آئے گا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس موقع کے لیے کوئی حکم ہے۔بعض کہ دینگے معمولی بات ہے اگر سلام نہ کیا۔تو کیا ہوا بعض کہیں گے۔حیا کی وجہ سے نہیں کہا۔بعض کہیں گے عادت نہیں۔مگر یہ تینوں قسم کے لوگ نادان ہیں۔حیا کے معنے ہیں رکنا اور رکھنا ایسی باتوں سے چاہیئے۔جو مضر ہوں نہ کہ ان سے جو فائدہ مند ہوں اور پھر وہ جن کا فائدہ دھانی ہو۔اسی طرح اسے معمولی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس کا فائدہ مرنے کے بعد قیامت تک ملتا رہیگا۔پھر یہ نه مسلم بر روایت مشکوة کتاب الاداب باب السلام۔