خطبات محمود (جلد 6) — Page 498
۴۹۸ محبت تو ہے۔مگر ہم اسے ظاہر نہیں کرتے۔آخر ایسے ہی لوگوں کو ٹھوکر لگی۔توکبھی مکن ہی نہیں کہ محبت ہو اور پوشیدہ رہے۔محبت سب سے غالب ترین جذبہ ہے اور دنیا میں یہ ایک ہی چیز ہے۔جو باقی سب طاقتوں کو توڑ کر رکھ دیتی ہے۔انبیاء جس چیز کو لے کر آئے۔وہ محبت ہی ہے وہ اسی ہتھیار کو لے کر کھڑے ہوئے۔اور اسی سے تمام جذبات فاسدہ بغض، حسد کینہ شہوت نکست کھا جاتے ہیں۔کیونکہ محبت وہ جذبہ ہے کہ خدا تعالیٰ بھی فرماتا ہے میری تمام صفات پر یہ غالب ہے۔رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيءٍ (الاعراف: ۱۹۷، یہی وجہ ہے کہ اسلامی تعلیم کے مطابق دوزخ کے متعلق بھی یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس میں بھی غیر محدود عذاب نہیں ہوگا۔کچھ عرصہ کے بعد دوزخیوں کو بھی نکال لیا جائیگا۔تو محبت بہت زبردست جذبہ ہے۔حتی کہ خدا تعالیٰ کی وہ صفات جو مخلوق سے تعلق رکھتی ہیں۔ان میں سے محبت کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ سب سے غالب ہے۔اور انسانوں میں بھی یہ جذبہ باقی تمام جذبات سے زیادہ دیر دوست ہوتا ہے۔بڑے بڑے زبر دست اور سرکش انسان ہوتے ہیں، لیکن محبت کے پھندے میں پھنس کر چور چور ہو جاتے ہیں۔اور وہ جو سرکشی اور غرور کی وجہ سے کسی کے آگے مجھکنے کا خیال تک بھی دل میں نہیں لاتے۔محبت سے مجبور ہو کر غلامی کو فخر سمجھنے لگ جاتے ہیں حضرت عمرو بن العاص کا واقعہ ہے وہ کہتے کہ رسول کریم ملی الہ علیہ وآلہ سلم کا مجھ جیا کئی دشمن نہ تھا۔میں عداوت اور بعض کی وجہ سے آپ کے چہرہ پر نظر نہ ڈال سکتا تھا۔اور ہر وقت مجھے اس کی وجہ سے آگ سی لگی رہتی تھی۔مگر پھر وہ زمانہ آیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہی محبت وہی اخلاص اور وہی ہمدردی جس کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے تعلك باعَ نَفْسَكَ اللَّا تَكُونُوا مُؤْمِنين الشعر آمد (۴) کیا تو اس بات پر اپنے آپ کو بلاک کرلیگا کہ لوگ انسان کیوں نہیں لاتے۔یہ محبت اور الفت کا جذبہ جو رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم کی جان کو دکھ کی طرح لگا ہوا تھا۔غالب آیا۔اور پھر اس عمر نے کہا کہ میں رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم کے رعب کی وجہ سے آپ کے چہرہ پر نظر نہ ڈال سکا۔اور اگر آج کوئی مجھ سے پوچھے کہ رسول کریم کی کیا شکل تھی تو میں نہیں بتا سکتا یہ دیکھو محبت کی وجہ سے کیا تبدیلی ہوئی تو چونکہ محبت سب سے زیادہ زبر دست جذبہ ہے ایس لیے اس کو پوشیدہ رکھنے کا دعوی باطل ہے۔پس جو شخص خیال کرتا ہے کہ مجھے خدا تعالیٰ سے محبت ہے، لیکن محبت کے آثار اس نے ظاہر ه مهاجرین حصہ دوم مصنفه شاه معین الدین ندوی صداها