خطبات محمود (جلد 6) — Page 496
93 خدا سے محبت کا دعویٰ فرموده ۲۴ ستمبر حضور انور نے تشد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- " بہت لوگ اس دنیا میں ایسے ہیں۔جو بڑے زور شور سے اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ ان کو اس ہستی پر ایمان ہے۔جو اس دنیا کی خالق و مالک اس دنیا کے امور کی نظم - دیم۔کریم بہین اور محافظ ہے اور بہت لوگ اس دنیا میں ایسے پائے جاتے ہیں۔جو اس بات کا دعوی کرتے ہیں کہ ان کو اس سہتی۔پیار اور محبت ہے۔مگر بہت کم ایسے ہوتے ہیں۔جو اپنے افعال اور اپنے اعمال سے ثابت کر سکتے ہیں کہ واقع میں ان میں خدا تعالیٰ سے محبت ہے۔خداتعالی برایان اور محبت و پیار چھپی ہوئی چیزنہیں کوئی ایسا راز ہیں کہ انسان سے پوشیدہ کو سکے۔یہ مال وزر کی طرح پوشید کونوں میں تھماڑی نہیں جاسکتی۔بنکوں میں جمع نہیں کرائی جاسکتی۔بلکہ یہ ایک آگ کی طرح ہوتی ہے اور میں جگہ آگ لگی ہو۔وہاں سے دُھواں اٹے بغیر نہیں رہ سکتا۔یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ کس گھر کو یا کھلیان کو آگ لگا دو اور پھر اسے لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ رکھ سکو۔یہ تو الگ رہا چھو لے میں آگ جلا کر بھی مخفی نہیں رکھی جاسکتی اس کو بھی چھوڑ کر دیے کی کو کتنی چھوٹی ہوتی ہے دیگر اس بھی دھواں نکلتا ہی ہے۔اور چھت تک پہنچتا ہے۔پھر موم کی بھی کتنی پتلی ہوتی ہے لیکن اگر متواتر جلاؤ - توگو ظاہر میں دُھواں نظر نہ آئے گا۔مگر تھوڑے ہی دنوں کے بعد دیکھو گے کہ دیواریں کالی ہو جائیں گی۔تو جس طرح جہاں آگ لگی ہو۔وہاں سے دھواں نہ اُٹھے ناممکن ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ سے عشق ہو۔اس خدا سے پیار و محبت ہو جو سب سے زیادہ حسین ہے۔اور پھر کوئی اسے پوشیدہ رکھ کے۔ظاہر نہ ہونے دے۔یہ بھی بالکل ناممکن ہے۔دلوں کے جذبات کو دبانا بہت زبر دست قوت ہے۔بہت زیادہ طاقت اور بہت زیادہ وسعت حوصلہ چاہتا ہے۔اور ہر ایک کا کام نہیں ہے کہ جذبات کو دبا سکے ہم تو دیکھتے ہیں کسی