خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 482 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 482

ہاں۔اس پر آپ جب بہت حیران ہوئے تو انہوں نے کہا کہ کس طرح کھانے چاہتے تھے۔فرمایا کسی دن بتائیں گے۔اتفاق سے ایک دن پھر لڈو آئے تو ایک لڈو کا چھوٹا سا ٹکڑا توڑ کر خدا تعالے کی تعریف شروع کردی که خدا کیسا مہربان ہے کہ اس نے مظہر جان جانان کے لیے اتنا سامان کیا۔اس لڈو میں میٹھا ہے۔میدہ ہے۔وہ کہاں سے آیا۔اور کتنے آدمیوں نے بنایا۔خدا نے میرے لیے کتنے آدمیوں کو کام میں لگایا اسی طرح خدا کی نعمتوں کا اتنا ذکر کیا کہ ظہر سے عصر کا وقت ہو گیا۔اور اذان سنکر کہا چلو نماز پڑھیں۔یہ جو کچھ انہوں نے کیا سکھانے کے لیے کیا کہ خدا کی نعمتوں کو استعمال کرتے ہوئے خدا کے احسانات کو فراموش نہیں کرنا چاہیئے۔اور یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا کے کاموں میں نظر آتے ہیں مگر خدا کی یاد سے غافل نہیں ہوتے۔مگر یہ درجات اسی وقت حاصل ہوتے ہیں۔جب روحانیت کی ابجد پڑھی جائے۔غرض تعلق باللہ کا پہلا قدم یہ ہے کہ انسان محسوس کرے کہ مجھے اللہ سے پیار ہے۔مجھے اللہ تعالے مل جاتے جب اس کی یہ حالت ہو تو گویا اس نے روحانیت کی ابجد پڑھ لی۔دوسرا قدم وہ قاعدہ ہے کہ اگر اس کی پابندی کرے تو اس کے لیے کامیابی کے دستے کھلتے ہیں۔اور یہ گویا وہ حالت ہے کہ جب ابجد پڑھنے کے بعد حروف ملا کر الفاظ پڑھنے آتے ہیں۔اور وہ یہ کہ تعلق باللہ میں جب اللہ کے مقابلہ میں خواہ کوئی بڑی سے بڑی چیز بھی آجائے۔تو خدا کے مقابلہ میں اس کو قربان کر دے۔تجارت ہو۔زراعت ہو اولاد ہو۔حکومت ہو۔عزت ہو۔جاہ حشمت ہو۔علوم ہوں۔غرض کہ کوئی چیز ہو۔اگر خدا کے نام کے آگے آجائے تو قربان کر دینے کا تہیہ ہو۔فرض پہلا درجہ خدا کی محبت کا احساس ہے اور دوسرا دنیا کی ہر ایک بڑی سے بڑی چیز کا اس کے لیے قربان کرنے کے لیے آمادگی اور اس کا ثبوت۔اس وقت گویا یہ خدا کی محبت میں دمیدم ترقی پر ہوگا۔اگر اللہ چاہے تو کوئی چیز اس کے لیے روک نہیں ہو سکتی۔اس سبق کو یاد رکھو اور مایوسی سے بچو۔اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو مایوسی سے بچاتے اور ترقی اور کامیابی الفضل ۱۵ جولائی ملته ) کی طرف چلائے۔