خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 471 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 471

محمد علی صاحب میرے پاس آئے۔میں اس وقت سیر کو جارہاتھا۔اورکہا کہ یں کچھ بائی کرنا چاہتا ہوں۔میں نے کہا کہ ہاں کیجئے۔انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ خلافت کی کیا ضرورت ہے۔میں نے خلافت کی ضرورت جومیری سمجھ میں آئی بتائی۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ایسے خلیفہ کی خلافت کوتسلیم کرنا جس سے اختلاف عقائد ہو شکل ہے۔اور اسی ضمن میں نبوت اور کفر کے مسائل پر بھی گفتگو ہوئی اور گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ تک یہ گفتگو ہوتی رہی۔پھر میں نے مسجد میں ایک تقریر کی اور جماعت کو سب اختلافات چھوڑ کر دعاؤں کی طرف توجہ دلائی۔اور میں نے اختلاف وغیرہ کی طرف اشارہ بھی ہیں کیاتھا۔بلکہ یہ کہاکہ کھا کر کہ خدا کالم می ہمارے لیے مفید ہے وہ ہو جائے۔میں لیکچر دے رہا تھا کہ مولوی صاحب گھبرائے ہوئے آئے۔انہوں کے بھی وہاں تقریر کی اور وہ تقریر ایسی تھی کہ جنہوں نے وہ نظارہ دیکھا اور وہ تقریر سنی ہے۔اس کو نہیں بھول سکتے۔اس میں مولوی صاحب نے یہ بھی کہا تھا کہ یاد رکھو کہ میں اگر قادیان سے گیا تو اکیلا نہیں جاؤنگا۔بلکہ ایک بڑی جماعت میرے ساتھ جائے گی۔مگر وہ بہت بڑی جماعت جو مولوی صاحب کے ساتھ گئی۔وہ ماٹر فقیر اللہ صاحب اور مولوی صدرالدین صاحب تھے۔پھر یہ بھی کہا کہ اگر میں بدنیت ہوں تو خدا مجھے ذلیل کرے۔دیکھ لو دن بدن ان کو کونسی عزت حاصل ہو رہی ہے۔یہ صبح کا واقعہ ہے۔پھر میں نے ان سے کہا کہ آپ اپنے دوستوں سے مشورہ کریں۔اور میں بھی اپنے دوستوں سے مشورہ کرتا ہوں۔پھر آپس میں گفتگو کرینگے۔انہوں نے ظہر کے بعد کہلا بھیجا کہ ہم آتے ہیں۔غرض وہ آئے۔اور ان کے دوست ان کیساتھ تھے۔میں نے اپنے دوستوں سے مشورہ کیا تھا۔وہ با موم میں رائے رکھتے تھے کہ جب ہم میں اور ان میں اختلاف ہے تو کس طرح ان میں سے کسی شخص کی بیعت کر سکتے ہیں۔میں نے ان کو سمجھایا کہ اس طرح وہ بھی کہیں گے۔تو اس سے تو اختلاف مٹ نہیں سکتا۔اور لوگوں کو خواہ مخواہ کہنے کا موقع ملے گا کہ احمدی جماعت میں اتحاد نہیں۔اور پھر جب ایک دوسرے کی بات ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہو سکتا، تو پھر اختلاف کیونکر دور ہو۔میں نے ان کو سمجھایا کہ اتحاد کا ٹوٹنا زیادہ خطرناک ہے۔بہتر یہ ہے کہ ہم اللہ پر اس معاملہ کو چھوڑ دیں۔وہ جو چاہے کرے۔پھر میں نے اپنے رشتہ داروں سے بھی مشورہ کیا۔ان میں سے بعض نے بھی یہی بات کہی۔لیکن میں نے ان کو سکھایا کہ جماعت میں اتحاد رہنا ضروری ہے۔اس سوال کو اُٹھانے کی ضرورت نہیں کہ کون خلیفہ ہو بلکہ اس کی ضرورت ہے کہ خلیفہ ہو خواہ کوئی ہو۔تاکہ جماعت میں اتحاد رہے میں نے تجویز یہ بتائی کہ اس اختلاف کو مٹانے کے لیے اول تجویز یہ ہے کہ ہم کسی ایسے شخص کو خلیفہ بنائیں جس کے اعتقادات اختلافی مسائل میں اب تک ظاہر نہ ہوتے ہوں۔دوسری یہ ہے کہ اگر کوئی ایسا شخص مل جائے۔مگر اس کو ماننے کے لیے مولوی محمد علی صاحب اور ان کے ساتھی تیار نہ ہوں۔تو مولوی