خطبات محمود (جلد 6) — Page 457
۴۵۷ اچھے سے اچھا بدلہ دیتا ہے۔اگر کوئی شخص دس روپے خدا کے لیے قربان کر دے تو خدا اس کے لیے بہت سے فوائد پیدا کریگا۔اگر ایک شخص کسی کے دس روپے دباتا ہے۔اور وہ اس پر صبر کرتا ہے۔اور کوئی ذلت خدا کے لیے اختیار کرتا ہے تو خدا اس کا نعم البدل دیتا۔اور اس کے لیے حقیقی عزت کے سامان پیدا کرتا ہے۔ایسے شخص کا کوئی نقصان نہیں۔حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک صحابی کو ایک شخص گالیاں دے رہا تھا۔آنحضرت کھڑے دیکھ رہے تھے۔اس صحابی نے بھی گالیوں کا جواب دینا شروع کیا تو آپ چلے گئے۔وہ صحابی حضور کے پاس گئے اور سبب دریافت کیا۔تو آپ نے فرمایا کہ جب وہ شخص تمہیں گالیاں دے رہا تھا۔اور تم خاموش تھے۔اس وقت خدا تعالیٰ کے فرشتے تمہاری طرف سے اس شخص کو جواب دے رہے تھے لیکن جب تم نے جواب دینا شروع کیا۔توفرشتے چلے گئے کہ اب یہ شخص خود جواب دینے لگ گیا ہے پس یہ جو جھگڑے ہوتے ہیں۔ایان کی کمی اور اس وجہ سے ہوتے ہیں کہ اندازہ نہیں کیا جاتا کر ی کا مظاہ کہاں تک ہونا چاہیئے۔اپنے حق کا مطالبہ کرو، جاتک وہ اپنی حد میں رہے، لیکن اگر معاملہ و مطالب جد سے گزر گیا۔تو پھروہ ایک ایسی صورت اختیار کر لیتا ہے جس کا اثر جماعت پر پڑتا ہے۔یا درکھو۔اگر جماعت معزز ہو تو اس کا ہر ایک فرد معززہ ہوتا ہے، لیکن اگر جماعت معز نہ ہو تو اس کا کوئی فرد بھی در حقیقت معز نہیں ہوتا تم انگریزوں کو دیکھو ان میں سے بہت سے ہیں کہ وہ اپنے وطن میں نہایت ذلیل اور کس مپرسی کی حالت میں ہوتے ہیں۔مگر وہ یہاں معزز ہیں کیونکہ وہ ایک معزز قوم کے افراد ہیں۔ان کی شہادت کی وہ قدر ہے کہ تمہارے مال و دولت علم عقل۔ان کے مقابلہ میں کام نہیں آسکتے۔بیان کہ دیا جاتا ہے کہ جو کچھ یہ کہتا ہے۔بیچ ہے اس لیے کہ یہ ایک معزز قوم کا فرد ہے۔دیکھو اگرچہ ہماری جماعت ایک چھوٹی سی جماعت ہے لیکن بہت مواقع پر اس کے افراد کی بوجہ جماعت کے عزت کی جاتی ہے۔پس جماعت کا فائدہ ایسا فائدہ ہے جو خود اس شخص کی طرف لوٹ کر آتا ہے۔ہیں اس گرا کو سمجھو اور قربانیاں کرو۔اور ہر معاملہ میں اندازہ اور موازنہ سے کام لو۔اللہ تعالیٰ ہم کو اس بات کے سمجھنے کی توفیق دے اور ان راہوں پر چلائے جن سے ہم میں اتفاق ہے اور ہماری نصرت فرمائے اور ہم میں قربانیوں کا احساس پیدا کرے جس سے سلسلہ کی بڑائی قائم ہو۔اور میں ایسی باتوں اور ان طریقوں سے بچائے جن سے سلسلہ کی عزت میں فرق آتے یا ه مسند احمد بروايت مشكورة كتاب الآداب في الرفق والحياء والفضل ١٤ جون ١٩٣٠ة۔