خطبات محمود (جلد 6) — Page 430
۴۳۰ علم کی بات بیان کی جائے تو کہتے ہیں اگر یہ ٹھیک ہے تو سے علماء کی سمجھ میں کیوں نہآئی۔یہ خیال کرکے انہوں نے قرآن کریم پر غور کرنا چھوڑ دیا۔اور اس کے علوم اور معارف سے محروم ہو گئے۔اب کیا فرق ہوا یہی کہ مسیح موعود اور اس کے طریق پر چلنے والے قرآن پر غور کرتے اور اس سے علوم نکالتے اور فائدہ اُٹھاتے ہیں۔اور مولوی لوگ خیال کرتے ہیں کہ اس کے محض لفظوں کا تکرا ر ہی ثواب کی بات ہے۔پھر دیکھو یہی زمین جس پر ہم رہتے اور چلتے پھرتے ہیں۔ہمارے نزدیک اسی مصرف کی چیز تھی۔لیکن یورپ کے لوگوں نے اس سے وہ کچھ نکال کہ دنیا کو حیران کردیا۔یہی پانی جسے ہم پہتے ہیں۔یورپ نے اس کی گیسیں بنا کر بڑے بڑے کام اس سے نکالے بغرض جب تک کسی بات پر غور نہ ہو۔سرسری سنے سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔اسی پچھلے جلسہ میں پہلے دن میں نے یہ بات بیان کی تھی۔کہ دنیامیں بہت سے گناہ ہیں اور اس بیان میں میں نے انسان کے بندہ خدا نے پر فصل گفت گو کی تھی اور اس کے ضمن میں نیکی اور بدی کا بھی ذکر تھا۔میں نے بتایا تھا کہ بدیاں بہت ہیں ، لیکن وہ گناہ جس کے باعث شعائر اسلام پر حرف آتا ہو۔وہ بنت خطرناک گناہ ہوتے ہیں۔وہ چھوٹی بدی جس کے باعث اسلام بدنام ہو۔بہت بڑی ہے۔نیبت اس بدی کے جو محض ارتکاب کر نیوالے کی ذات کیلئے ہلاکت کا موجب ہو، ایک شخص اندھیری رات میں کہیں چوری کیلئے جاتا اور سیندھ لگاتا ہے۔یہ گناہ ہے اور اسکی ذات کیلئے بڑا گناہ ہے مگر وہ شخص جو مسلمان کہلا کر علی الاعلان سود لیتا ہے۔وہ اس کی نسبت بہت بڑا گناہ کرتا ہے۔کیونکہ یہ لوگوں کو موقع دیتا ہے کہ وہ شور مچائیں کہ اسلام قابل عمل مذہب نہیں۔اس وقت جزوں اور گناہوں کے شرعی مدارج کو چھوڑ کر محض اس وجہ سے کتے ہیں کہ فلاں گناہ زیادہ بڑا ہے کہ اسلام کے لیے اعتراض کا موجب بنتا ہے۔ی تھی میری تقریر میں اس کے سیاق وسباق پر غور نہ کیا گیا۔اور الفضل میں لکھ دیا گیا کہ احباب کو چاہتے کہ جو ہدایات ان کو جلسہ میں دی گئی ہیں۔ان پر کار بند ہوں۔بالخصوص دو شادیاں کرنے پر ضرور عمل کریں۔یہ کیوں لکھ دیا گیا۔اس لیے کہ میرے متعلق وہ سمجھتے تھے کہ یہ دو شادیوں کے لیے کہا کرتا ہے۔بیشک میں کیا کرتا ہوں، لیکن میں نے اس وقت یہ بات بیان نہیں کی تھی بلکہ میں نے تو اس وقت مثال کے طور پر کہا تھا کہ جو لوگ دو شادیاں کرتے ہیں مگر انصاف نہیں کرتے وہ سمجھ لیں کہ وہ ایک سخت گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔جس سے لوگوں کو اسلام سے نفرت پیدا ہوتی ہے اس لیے یہ ان کا گناہ اس گناہ کی نسبت جو پوشیدہ طور پر کیا جائے اور ان کی ہلاکت کا موجب ہو۔بڑا