خطبات محمود (جلد 6) — Page 425
۴۲۵ ہے۔ہاں اگر اپنے بھائی کے علاج میں لگ جاتا ہے اور اس کے نقائص دُور کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ فرق ہے کیونکہ دوسرا صرف بیماری دیکھتا ہے۔اور اسکا علاج نہیں کرتا مگر تم اپنے بھائی کی بیماری دیھکر اس کا علاج بھی کرتے ہو مگر میں دیکھتا ہوں بہت سے لوگوں میں عیب لگانے کی تو عادت ہے، لیکن عیب دُور کرنے کی نہیں۔اس کا نتیجہ سوائے اس کے اور کچھ نہیں نکلتا کہ آپس کے تعلقات منقطع ہو جاتے ہیں اور ایک کو دوسرے سے کوئی محبت نہیں رہتی۔انسانی فطرت کو اکسائے اور اپنی طرف مائل کرنے والی چیز محبت اور پیار ہے جب کوئی انسان اپنے اندر محبت کا چشمہ بہاتا ہے تو اس کے آس پاس جو لوگ ہوتے ہیں۔ان کی فطر میں خواہ سینکڑوں من مٹی کے اندر دبی ہوں۔اُبھر آتی ہے۔میں نے ایک رویا دیکھا۔جو کئی دفعہ سنایا ہے۔میں نے کیا ایک سیٹچو ہے جس کے اوپر ایک بچہ ہے۔جو آسمان کی طرف ہاتھ پھیلاتے ہوتے ہے۔ایسا معلوم ہوا ہے کہ کسی کو بلا رہا ہے۔اتنے میں آسمان سے کوئی چیز اتری ہے جو نہایت ہی حسین عورت ہے۔اور اس کے کپڑوں کے رنگ ایسے عجیب و غریب ہیں جو میں نے کبھی نہیں دیکھے۔اس نے جو ترے پر سے اتر کر اپنے پر پھیلا دیتے اور نہایت محبت سے بچہ کی طرف جھکی۔وہ بچہ بھی اس کی طرف اس طرح پکا جس طرح ماں سے محبت کرانے کیلئے لیکا کرتا ہے۔اور اس نے بچہ کو ماں کی طرح ہی پیار کرنا شروع کر دیا۔اس وقت میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہو گئے۔Love creates Love کہ محبت محبت پیدا کرتی ہے، اس وقت مجھے ایسا معلوم ہوا کہ وہ بیٹی ہے اور وہ عورت مریم تو محبت مردہ کو زندہ دشمن کو دوست مخالف کو موافق بنا دیتی ہے۔ذراغور تو کر وہ کیا چیز ہوتی ہے جس سے نبیوں کے مخالف ان کے پاس کھینچ کر چلے آتے ہیں وہی جس کے متعلق خدا تعالیٰ رسول کریم کو فرماتا ہے۔لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ (الشعراء ۴۰) کیا تو اپنی جان کو ان لوگوں کے لیے ہلاک کر لیا تو انبیا، لوگوں کے گناہوں اور کمزوریوں کو دیکھ کر ان سے نفرت نہیں کرتے ہیں کیونکہ تندرست اور مضبوط کو دیکھ کراس پریم نہیں کیا جاتا بلکہ بیمار اور زور پریم کیا جاتا ہے پس اگر تم اپنے گز در اید غیب دار بھائی سے ہمدردی نہیں کرتے۔اس کو مدد نہیں دیتے۔تو کسی اچھے اور تندرست سے ہمدردی کرنا کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔اصل ہمدردی اور امداد تو وہی ہے۔جو کمزور کو دی جائے۔ایک الیسا شخص جس کو کوئی احتیاج نہیں۔اس کو اگر کہا جائے کہ ہمارے لائق کوئی خدمت ہو۔تو تلا ہے۔یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ہاں بڑی بات یہ ہے۔جو محتاج ہو۔اس کی امداد کی جائے۔توکمزور بھائی کیساتھ