خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 348

کہ یہ بات پرانی چلی آتی ہے اور فطرتی بات ہے کہ انسان مہمان نوازی کرتا ہے اور مہمان کا اکرام کرتا ہے۔میں نے ابھی جو چند آیات پڑھی ہیں۔ان میں حضرت ابراہیم کے زمانہ کا حال بیان کیا گیا ہے اور وہ زمانہ ہزاروں سال کا زمانہ ہے جو موجودہ تہذیب کے قواعد کے ترتیب دیتے جانے سے بہت پہلے کا ہے۔پرانا تمدن یونانی تمدن ہے جس نے دنیا پر بڑا اثر کیا۔لیکن حضرت ابراہیم کا زمانہ اس سے بہت پہلے کا زمانہ ہے پھر ہندو فلسفہ ہے گرا سکے تعلق جو تازه ترین تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے وہ یہ کہ میں ہزار سال سے ہے اور حضرت ابراہیم کا زمانہ اس سے پہلے کا زمانہ ہے حضرت ابراہیم حضرت مولتی سے چھ سو سال قبل ہوتے ہیں کیونکہ حضرت ابراہیم ان تاریخی زمانوں سے پہلے ہوتے ہیں۔ان کے تعلی الہ تعالی فرماتا ہے کہ ابراہیم کے ہاں کچھ مہمان آتے دو مہمان کیسے تھے ایسے تھے جوحضرت ابراہیم کے قریبی رشتہ دار ہوتے۔نہ آپس میں قدیم واقفیت تھی کیونکہ لوگ اپنے رشتہ داروں کی خاطر تواضع اور مہمانداری کرتے ہیں، لیکن رشتہ داروں کی مہمانداری حقیقی مہمان نوازی نہیں ہوتی۔اس کا باعث آپس کے تعلقات ہوتے ہیں۔اگر یہ شخص ان کے ہاں جاتے تو وہ بھی اسی کی طرح خاطر کرینگے۔اس لیے یہ تو عوض معاوضہ کی صورت ہو گئی۔ایک بھائی اپنے دوسرے بھائی کی دعوت کرے یا ایک شخص اپنے ماں باپ کی خاطر داری کرے تو ہم اس کے متعلق یہی کہیں گے۔کہ وہ اس کا بھائی ہے۔اور وہ اس کے ماں باپ اور بھائی بھائیوں کی خاطر داری کیا ہی کرتے ہیں۔اور سعید اولاد ماں باپ کی خدمت گزاری کیا ہی کرتی ہے۔اسی طرح رشتہ داروں کی بھی لوگ مہمانداری کیا ہی کرتے ہیں۔اس کی عام طور پر یہ وجہ ہوتی ہے کہ ایک دوسرے پر احسان کا موقع ملے، لیکن ایسے مواقع پر مہمان نوازی کی حقیقت نہیں گھلتی۔مگر ابراہیم علیہ اسلام کے پاس جو لوگ آتے۔آپ ان کو جانتے پہچانتے نہ تھے ، بلکہ آپ ان سے بالکل ناواقف تھے مگر باوجود نا واقفیت کے کہ ابراہیم کو نکاعلم نہ تھا۔ابراہیم نے انکو اپنا مان گیا اور ایسا مہمان بنایا کہ ابراہیم کے فصیف کریم معززو محترم مہمان ہو گئے۔حضرت ابراہیم وہ ہیں جنکو خدا نے معز کیا تھا جن کی بزرگی کی دنیا قاتل ہے، لیکن چونکہ وہ مہمان تھے اور ابراہیم نے انکا کام احترام کیا۔اسلیئے وہ ضیف مکرم کہا ہے۔اب حضرت ابراہیم کا طرتی بیان کرتا ہے۔اور اس ادب کو بتاتا ہے۔جو آپ نے اپنے مہمانوں کا کیا جب مہمانوں کو بٹھا چکے تو فراغ الى اهله - اپنے احترام کرنے کو پوشیدہ رکھا۔اور نہایت پوشیدگی اور خاموشی کے ساتھ اپنے اہل کی طرف چلے گئے۔لوگوں کا قاعدہ ہوتا ہے۔کہ جب کوئی مہمان آئے۔تو وہ اس کا احترام بھی کرتے ہیں۔مگر ساتھ ہی ایسی باتیں بھی کر جاتے ہیں۔جن سے یہ مقصود ہوتا ہے کہ مہمان ہمارے اس رویہ کی قدر کرے۔مثلاً مہمان آیا۔تو کہیں گے آپ کے لیے دودھ لاؤں۔