خطبات محمود (جلد 6) — Page 346
ذاتی معاملات اور دیگر امور میں رحم سے کام لو کیونکہ خدا رحم کرنیوالوں سے محبت کرتا ہے بعض حالات میں تو یہاں تک فرمایا ہے کہ جو شخص رحم نہیں کرتا۔وہ سلمان نہیں۔یہاں الٹ بات ہے کہ لوگ ایسی باتوں پر چشم پوشی سے کام لیتے ہیں جن سے جماعت کا شیرازہ بکھرتا ہو، لیکن وہ باتیں جن کا اثر ان تک محدود ہو اس پر غصہ کرتے ہیں۔یہ ایمان کے نقص کی بات ہے۔رحم وہ ہے جو جڑ ہے اسلام کی اور اس کا تعلق تمام اقوام سے ہے کہ اگر اس میں نقص ہے تو ایمان میں نقص ہے۔میں اپنی جماعت کو خاص طور پر نصیحت کرتا ہوں کہ محبت و اخلاص کو آپس میں بڑھا تو کہ شخص دوسرے کے معاملات کو اپنے معاملات ہی محسوس کرے۔آج کل کے بھائیوں کی حالت کو دیکھتے ہوئے میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ آپس میں ایسی محبت کرو جیسی کہ بھائی کو بھائی سے ہوتی ہے۔کیونکہ آجکل بھائیوں میں محبت نہیں، ہاں میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں جو بھائی بھائیوں میں آپس میں محبت ہوتی تھی۔وہ پیدا کرو، پرانا محاورہ ہے کہ خون سفید ہو گئے مگر اس کی حقیقت آجکل کھلی۔جبکہ بھائی بھائی آپس میں بالکل بے تعلق ہو گئے۔اور کوئی رشتہ ایسانہ رہا جس میں محبت کو زیادہ تعلق ہو یں تم ایسے رشتہ دار بنو۔جیسے رسول کریم کے زمانہ میں صحابہ تھے۔اس زمانہ میں تم نے مسیح موعود گو دیکھا ہے تم لوگ آپ سے وابستہ ہو سپس جو رنگ محبت آپ میں دیکھا ہے وہ پیدا کرو۔اس سے زیادہ اور واضح مشال کیا ہو سکتی ہے۔پس یہ اساس ایمان ہے جب تک اخوت نہیں۔ایمان بھی نہیں۔فَاصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ اخوانا (ال عمران : (۱) کے یہی معنی ہیں۔اختوت مومن کی علامات میں سے ہے۔ایمان اور اخوت ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔میں نصیحت کرتا ہوں۔اس کو یاد رکھو کہ آپس میں اخوت کے تعلقات کو بڑھاؤ اور جب تک اس پر عمل نہ کرو گے۔آگے قدم نہیں اُٹھا سکو گے یا ( الفضل ، دسمبر ) من