خطبات محمود (جلد 6) — Page 341
۳۱ کو کم یا کہ موسی کے خلاف دُعا نہیں ہوسکتی جب بادشاہ کو معلوم ہوا کہ میری کوئی بات کارگر نہیں ہوتی تو اس نے وہی چال چلی۔جو آدم کو جنت سے نکلوانے کے لیے شیطان نے چلی تھی۔کہ حوا کے ذریعہ پھیلایا تھا۔اسی طرح اس نے بہت سے زیورات وغیرہ تیار کرائے۔اور موسیٰ کے برخلاف دعا کرانے کے لیے اس بزرگ کی بیوی کو دیئے۔اس نے تحریک کی بنگر اس بزرگ نے جواب دیا کہ موسی خدا کا مقرب ہے اس لیے اس کے خلاف بد دعا نہیں ہوسکتی۔میں نے کی تھی۔مگر وہاں سے جواب مل گیا، لیکن وہ مصر ہوئی۔اور کہا کہ کیا ضرور ہے کہ اب بھی وہی حالات ہوں۔تم بددعا تو کرو۔آخر وہ رضامند ہوگیا۔اس کو ایک جگہ لے گئے اس نے کہا کہ یہاں سینہ نہیں گھلتا۔اور اسی طرح دو تین جگہ گیا۔آخر چونکہ اسکا ایمان جانا تھا۔اس نے بددعا کی۔کہتے ہیں کہ جونہی اس نے بددعا کی میوسی کی قوم میں تباہی پڑ گئی۔کیونکہ اس کے پہلے ایمان کا کچھ تو اثر ہوا تھا۔اور ادھر اس کا ایمان کبوتر کی شکل میں اٹھ گیا۔بیشک یہ ایک قصہ ہے مگر اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح کبوتر ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔اسی طرح ایمان اس کے دل سے نکل گیا۔پس چونکہ ایمان محنت سے آتا ہے اور جاتا ایک فقرہ میں ہے۔اس لیے ضرورت ہے کہ انسان ہر وقت ہوشیار رہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنگ میں تشریف لے گئے۔جب لوٹے تو غنیمت میں سے حضور نے مہاجرین کوکسی قدر مال زیادہ دیا۔اور اس پر انصار کے ایک گروہ میں سے کسی نے کہ دیا کہ خون تو انکی باری تلواروں سے ٹپک رہا ہے لیکن ماں نے گئے مہاجرین اس مجمع میں انصار میں سے ایک وہ شخص بھی پیچھے تھے جنہوں نے حضور کی محبت اُٹھائی تھی۔وہ حضور کے پاس گئے اور خبردی کہ ایک مجمع میں انیسی گفتگو ہوئی ہے۔بعض لوگوں کا قاعدہ ہوتا ہے کہ جب ان کے عزیز سے کوئی غلطی ہو تو وہ اس پر پردہ ڈال کرتے ہیں مگرانہوں نے ایسانہ کیا۔حضو صل اللہ علیہ سل نے انصار کو بلایا اور کہا میں نے اس قسم کی خبر سنی ہے۔کیا یہ درست ہے۔انہوں نے کہا کہ بے شک درست ہے۔مگر یہ کہنے والے بڑے لوگ نہیں بچے ہیں حضور نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اسے انصار تم کہ سکتے تھے کہ یہ گھرسے نکالا ہوا اکیلا آیا۔ہم نے اس کا ساتھ دیا اور اس وقت ساتھ دیا۔جب اس کے وطن والے اس کے دشمن تھے۔پھر ہم نے اس کے دشمنوں کو زیر کیا۔اب جب یہ فتح یاب ہوا تو اس نے اپنے بھائیوں کو مال د یدیا اور نہیں کچھ نہ دیا۔پھر فرمایا مگر اس کے مقابلہ میں تم یہ ھی کہ سکتے ہو کہ ایک جنگ جس سے مہاجرین تو مال و اسباب اور اونٹ وغیرہ لیکر گھروں کو گئے۔اور مدینہ والے اللہ کے رسول کو ساتھ لے گئے مگر اب جو الفاظ تمہارے منہ سے نکلے ہیں۔ان کا نتیجہ کم سن لو۔کہ دنیا میں تمہارے لیے کوئی عزت نہیں حوض کوثر پر ہی آکر مجھ سے مطالبہ کرنا۔چنانچہ ان ے بخاری کتاب مناقب الانصار