خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 335 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 335

۳۳۵ ان میں محو رہتے ہیں۔یہ تو وہ کھیل ہیں جو اجتماع سے تعلق رکھتے ہیں لیکن گھروں میں بھی اس قسم کے سامان موجود ہیں۔مثلا فونوگراف - گراموفون۔یہ تمام دل بہلانے کے ذریعے اور عیاشی کے سامان ہیں۔لباسوں میں ترقی ہوتی ہے۔مکانوں میں وسعت ہے۔کھانوں میں زیادتی ہے۔ایک وقت وہ تھا کہ لوگوں نے انگور کا نام سنا ہوا تھا۔مگر اب گاؤں گاؤں کے لوگ انگور کھاتے ہیں۔اس وقت ایسے علاقے تھے جہاں گیہوں نہ پیدا ہوتا تھا، لیکن آج یہ حالت ہے کہ دنیا کے پرلے سرے کی چیز ایک گاؤں میں میسر آسکتی ہے۔پنجاب کا ایک صوبیدار گزرا ہے۔راجپوت اس پر بہت فخر کرتے ہیں۔اور وہ اکبر کی طرف سے پنجاب کا گورنر تھا۔جب کہ وہ اپنی ماں کے پیٹ میں تھا۔اس کی ماں کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ انگور کھاتے۔وہ ایک گاؤن کے رہنے والی تھی۔اور اس کا خاوند ایک زمیندار تھا جیران ہوا۔انگور کہاں سے لائے۔اس وقت یہ خیال تھا کہ اگر حاملہ کو وہ چیز نہ دی جائے جس کی اسے خواہش ہو تو حل گر جاتا ہے۔اس کا خاوند تلاش میں تھا کہ انگور مل جائیں، اتنے میں اُسے معلوم ہوا کہ کابل سے ایک قافلہ دتی بادشاہ کے لیے میوے لیے جارہا ہے۔وہ شخص اس کے پاس گیا اور کیا کہ میری بیوی حاملہ ہے اور اس کی خواہش ہے کہ اسے انگور دیتے جائیں۔میر قافلہ نے کہا کہ میں بلا قیمت انگور اس شرط پر دیتا ہوں کہ تم لکھ دو کہ اگر تمہارا یہ بچہ حاکم ہوا تو ہمارا محصول معاف کر دیگا اس نے کاغذ لکھ دیا۔ساتھیوں نے کہا کہ یہ کیا بات ہے اس نے جواب دیا کہ یہ عورت جنگل میں ہے اس کے دل میں جو خواہش پیدا ہوئی ہے۔یہ اس کی نہیں۔بلکہ اس بچہ کی ہے۔جو اس کے شکم میں ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بچہ بڑا آدمی ہو گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔جب وہ حاکم ہوا تو اس نے محصول معاف کر دیا۔تو کوئی تو وہ زمانہ تھا کہ اس طرح خوش نصیبی کے فال نکالتے تھے۔آج ایک ایک پیسہ کے انگور بکتے ہیں۔اور لوگ کھاتے ہیں۔غرض دنیا کی ہر چیز ترقی پر ہے اور دنیا اپنی تمام خوبصورتیوں کے ساتھ آگئی ہے۔پہلے ایک ادنی مکان اور معمولی غذا اور موٹے لباس پر گزارہ ہوتا تھا۔اس وقت آسان تھا کہ لوگ دنیا کی بجائے دین کو اختیار کریں۔مگر آج لوگوں کی یہ حالت نہیں۔اب لوگوں کو محنت برداشت کرنانا ممکن ہے۔اس لیے حضرت مسیح موعود نے اس بات کو شرائط بیعت میں داخل کر دیا کیونکہ اب محال تھا کہ لوگ دنیا کو دین کے مقابلہ میں مفید خیال کریں، لیکن کوئی شخص کامل نہیں ہو سکتا۔جب تک کہ دین کے حقیقی منشاء کے ماتحت دنیا کو دین کے مقابلہ میں نہ چھوڑے۔جب تک جماعت کے افراد میں یہ خیال اور جذبہ پیدا نہ ہوگا۔اس وقت تک حقیقی ترقی حاصل نہ