خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 283

" یاد رکھیں میں نیں سمجھ سکا کہ پر کوئی جھگڑا ہوا پس شریعت نے تام جھگڑوں کے مٹانے کا گر بتادیا۔اوروہ یہ کر تم محسن بننے کی کوشش کرتے رہو۔اور احسان فراموش نہ بنو احسان فراموش نہ بننے سے میری یہ مراد نہیں کہ کسی کے احسان کو بھلا نہ دو۔بلکہ یہ ہے کہ احسان کرنا نہ بھول جاؤ کیونکہ عموما تنازعے اسی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں مثلاً ایک شخص کہتا ہے۔میں نے فلاں سے زیادہ چیز مانگی تھی مگر اس نے میرا کچھ لحاظ نہ کیا۔حالانکہ میں اس کا بھائی تھا۔کیا ہوتا اگر وہ مجھ پر احسان کرنے کیلئے تھوڑی سی قربانی کر دیتا۔حالانکہ یہ کہنے والے کو سوچنا چاہیئے کہ خدا تعالیٰ نے احسان کرنے کا جو حکم دیا ہے۔اس کا بجالانا صرف دوسرے کے لیے ہی نہیں۔بلکہ خود اس کے لیے بھی ہے۔وہ خود کیوں اس پر عمل نہیں کرتا۔اور کیوں بجائے زیادہ چیز مانگنے کے دینے والے پر احسان کرتا ہوا کہ نہیں لے لیتا۔اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ اس حکم پر عمل کرنا دوسرے کے لیے فرض سمجھتا ہے اور اپنے آپ کو اس سے آزاد قرار دیتا ہے۔اس سے تنازع پیدا ہو جاتا ہے۔پس ہمیشہ جب آپس میں اختلاف ہوتا ہے تو اس کی وجہ تلاش کرنے سے یہی معلوم ہوتی ہے کہ ایکدوسرے کے متعلق کہتا ہے کہ اس نے یوں کیوں نہ کر دیا۔ایک بیمار ہوتا ہے اور ڈاکٹر کے پاس آدھی رات کے وقت جاتا ہے۔اگر ڈاکٹر اس وقت اسے نہ ملے تو وہ شکایت کرتا ہے کہ کیوں رات کے وقت ڈاکٹر نے اسے دوائی نہ دی۔اور اگر دوائی دے۔تو کہتا ہے۔مفت دوا نہیں دے دی۔مگر ہم کہتے ہیں کہ احسان کا حکم تو اس کو بھی تھا۔اُس نے کیوں رات کو ڈاکٹر کو تکلیف دینے کی بجائے تھوڑی دیر صبر سے کام نہ لیا اور تکلیف کو برداشت کرکے صبح کا انتظار نہ گیا۔پھر کیوں اس نے چار آنے کی بجائے آٹھ آنے نہیں دیدیئے۔اگر ڈاکٹر کسی مجبوری کی وجہ سے رات کو مل نہ سکا۔تو وہ تو مطعون ہو جاتے۔اور یہ جس نے اپنے متعلق خدا کے حکم کو بے قدری سے دیکھا کیوں الزام کے نیچے نہ آئے۔پھر ایک شخص تاجر کے پاس جاتا ہے اور اس سے کسی مال میں رعایت مانگتا ہے۔اگر وہ نہ دے۔تو کہتا ہے۔دیکھو جی وہ میرا ہم مذہب تھا۔اس نے مجھ سے بھی کچھ رعایت نہ کی۔پھر قرض لیا ہو تو اس کے مطالبہ پر کہتا ہے۔میں اس سے فلاں چیز ادھار لایا تھا۔اس کے دام ایک مہینہ تک تو اس نے نہیں مانگے ، لیکن دوسرے مہینہ پیچھے ہی پڑ گیا۔ہم کیا کھا جاتے ، آخر دے ہی دیتے۔یہ کیوں کہتا ہے۔اس لیے کہ وہ چاہتا ہے کہ دوکاندار اس پر احسان کرتا۔مگر وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اس کو خود بھی تو احسان کا حکم تھا۔اس نے کیوں نہیں دو مہینہ پہلے ہی تاجر کو روپے دے دیتے تھے کہ وہ اپنے کام میں صرف کر لیا۔اور جب اس کو ضرورت ہوتی اس سے مال خرید لیتا۔اگر تم ایسا نہیں کرتے تو اگر دوکاندار سودا دے کر ایک ذرا بھی دام لینے میں خاموشی اختیار کرتا ہے۔تو وہ تم پر احسان کرتا ہے۔اور تمہارا محسن ہے۔کیونکہ اگر وہ اسی وقت قیمت