خطبات محمود (جلد 6) — Page 282
53 ایک دوسرے کے حسن بنو د فرموده در اگست 11 حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ پڑھ کر فرمایا :- بہت سے جھگڑوں اور اختلافوں کی وجہ میں دیکھتا ہوں۔شریعت کے احکام کی نا واقعی اور جہالت ہوتی ہے، بلکہ مسلمانوں کے تو تمام جھگڑے بلا استثناء اسی کے باعث ہوتے ہیں۔اگران امور کو مد نظر رکھا جائے جن کی نگہداشت اور جن کو مد نظر رکھنا شریعت نے ضروری قرار دیا ہے۔تو سلمانوں میں کوئی اختلاف ند رہے۔تمام جھگڑے اور تنازعات جو مسلمانوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ان کے دُور کرنے کے متعلق کلی طور پر ایک ہی علاج نہیں بتایا جا سکتا۔کیونکہ ہزاروں احکام ہیں جن کو لوگ توڑتے ہیں لیکن ایک بات ہے اگر اس کو مد نظر رکھا جائے تو بہت سے فساد مٹ سکتے ہیں۔چونکہ میں قدر تنازعے ہوتے ہیں وہ سب کسی نہ کسی حکم کی خلاف ورزی کے باعث ہوتے ہیں۔اس لیے وہ ایک خاص حکم کی خلاف ورزی کو ان سب کی وجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔مگر ایک اصل ہے کہ اگر اس کو مد نظر رکھا جائے تو تمام اختلافات ایک دم میں طے ہو جائیں۔۹۱ وہ اصل کیا ہے۔وہ یہ حکم ہے کہ ہر ایک مسلمان کا فرض ہے کہ اپنے آپ کو محسن بنانے کی بخش کرے۔چنانچہ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدُلِ وَالْإِحْسَانِ وِ ابْنَانِي فِى القُرني (النحل : کہ اللہ تعالی تمہیں عدل اور پھر احسن کا حکم دیتا ہے۔پس احسان کرنا ایک حکم ہے جو ہر ایک مسلم کو دیا گیا ہے۔اگر ہر ایک مسلمان یہ سمجھ لے کہ مجھے محسن بننا ہے تو تمام جھگڑے بہت آسانی کے ساتھ طے ہو سکتے ہیں۔کیونکہ سب کے سب جھگڑے اور فساد اسی حکم کے نہ سمجھنے کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں۔اکثر لوگ چونکہ اس حکم کو اپنے لیے بھلا دیتے اور نظر انداز کر دیتے ہیں اور خیال کرلیتے ہیں کہ یہ دوسروں کے متعلق ہے۔خود ان کے متعلق نہیں۔اس لیے جھگڑے ہوتے ہیں۔اگر تمام کے تمام لوگ اس کو